
حکومتِ پاکستان نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف شیڈول میچ میں شرکت نہیں کرے گی۔ اس فیصلے کے بعد کرکٹ حلقوں میں یہ سوال زیرِ بحث آ گیا ہے کہ اس اقدام کے پاکستان کی ٹیم اور مجموعی قومی کرکٹ پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حکومتی بیان کے مطابق پاکستانی ٹیم کو ٹورنامنٹ کے لیے سری لنکا جانے کی اجازت دے دی گئی ہے، تاہم 15 فروری 2026 کو بھارت کے خلاف مقررہ میچ نہ کھیلنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے جب آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے نکال کر اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا۔ بنگلہ دیش نے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بھارت میں میچز کھیلنے سے انکار کرتے ہوئے نیوٹرل وینیو کی درخواست کی تھی، جسے آئی سی سی نے مسترد کر دیا۔ بعد ازاں بنگلہ دیش کے انکار پر اسے ایونٹ سے باہر کر دیا گیا۔
پاکستان نے آئی سی سی بورڈ اجلاس میں بنگلہ دیش کے مؤقف کی حمایت کی اور اس فیصلے کو امتیازی قرار دیا۔ پاکستان کا مؤقف تھا کہ جب اس کے اپنے میچز بھارت کے ساتھ تنازع کے باعث سری لنکا منتقل کیے گئے، تو بنگلہ دیش کو بھی اسی نوعیت کی سہولت ملنی چاہیے تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی اس سے قبل واضح کر چکے تھے کہ بائیکاٹ ایک ممکنہ آپشن ہے، تاہم حتمی فیصلہ حکومت کرے گی۔
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں 20 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جنہیں مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پاکستان کو گروپ اے میں رکھا گیا ہے، جہاں اسے بھارت، نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکا کا سامنا ہوگا۔
پاکستان اپنا پہلا میچ نیدرلینڈز کے خلاف کولمبو میں کھیلے گا۔ تاہم گروپ مرحلے کا سب سے زیادہ زیرِ بحث مقابلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان متوقع میچ ہے، جس میں پاکستان کی عدم شرکت کی صورت میں آئی سی سی قوانین کے مطابق اسے فورفیٹ قرار دیا جائے گا۔
فورفیٹ کی صورت میں پاکستان کو دو پوائنٹس سے محروم ہونا پڑے گا اور اس کا نیٹ رن ریٹ بھی متاثر ہوگا، جبکہ بھارت کے رن ریٹ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مختصر فارمیٹ کے اس ایونٹ میں پوائنٹس کی کمی پاکستان کی اگلے مرحلے تک رسائی کو مشکل بنا سکتی ہے۔
مزید برآں، اگر پی سی بی باضابطہ طور پر آئی سی سی کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرتا ہے تو اضافی تادیبی اقدامات پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ ماضی میں ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں سیکیورٹی یا سیاسی وجوہات کی بنا پر میچز نہ کھیلنے کی مثالیں موجود ہیں، تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کی اہمیت کے باعث اس فیصلے کو غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی کی سالانہ آمدن کا ایک نمایاں حصہ حاصل کرتا ہے، جو عالمی میڈیا رائٹس معاہدوں سے منسلک ہے۔ اسی تناظر میں بین الاقوامی میڈیا میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ پاکستان کے فیصلے پر آئی سی سی کی اعلیٰ قیادت سخت مؤقف اختیار کر سکتی ہے۔
آئی سی سی کے ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ عالمی کرکٹ نظام پر اثر ڈال سکتا ہے، اور ادارہ فی الحال پاکستان کرکٹ بورڈ کی باضابطہ وضاحت کا منتظر ہے۔








