
دنیا کی توجہ ایران میں جاری کشیدگی کی جانب مرکوز ہے، لیکن ایک اور خطرہ، جو زیادہ دھیرے دھیرے اور خاموشی سے بڑھ رہا ہے، پاکستان جیسے حساس ممالک کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ خطرہ نہ کسی میزائل کی صورت میں ہے، نہ میڈیا کی سرخیوں میں جگہ پاتا ہے، اور نہ ہی فوری سفارتی ردعمل کو متحرک کرتا ہے، مگر اس کے اثرات مستقبل میں انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔
پاکستان اس وقت ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے مرکز میں کھڑا ہے۔ حالیہ تحقیقی رپورٹس، بشمول یونیورسٹی آف شکاگو کے کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی تحقیق، ظاہر کرتی ہیں کہ درجہ حرارت میں اضافہ مستقبل میں ہر سال دسیوں ہزار اضافی اموات کا سبب بن سکتا ہے، اور موجودہ رجحانات کے تسلسل کی صورت میں یہ تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ یہ پیش گوئیاں محض قیاس آرائی نہیں بلکہ موسمیاتی ماڈلز اور عالمی صحت کے ریکارڈز پر مبنی ہیں۔
گرمی کے اثرات براہِ راست عوامی صحت پر مرتب ہوتے ہیں، خاص طور پر غریب اور کمزور طبقات پر۔ پانی کی کمی، قلبی دباؤ، اور کیڑوں سے پھیلنے والی بیماریاں اس خطرے کو بڑھا دیتی ہیں۔ اسی طرح، شدید مون سون اور سیلاب، جو پاکستان میں بار بار آتے ہیں، فوری اور ثانوی اثرات کے ذریعے انسانی جانوں کو متاثر کرتے ہیں۔ نکاسی آب اور شہری منصوبہ بندی کی محدود صلاحیتیں خطرے کو اور بڑھا دیتی ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی سے جڑی اموات اکثر ریکارڈ نہیں ہوتیں، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں، جس سے بحران کی اصل شدت چھپ جاتی ہے اور پالیسی اقدامات متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دنیا میں اثرات غیر مساوی ہیں: ترقی یافتہ ممالک بنیادی ڈھانچے اور ابتدائی انتباہ کے نظام میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، جبکہ پاکستان جیسے ممالک نقصان کا بڑا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ماحولیاتی خطرات سے اموات کا تعلق صرف ماحولیاتی شدت سے نہیں بلکہ تیاری اور حکمرانی کی صلاحیت سے بھی ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی گرمی، غیر یقینی مون سون، اور محدود وسائل ایک ساتھ بحران کو پیچیدہ بناتے ہیں۔
تاہم، مایوسی کی ضرورت نہیں۔ دنیا کے دیگر خطوں کے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی انتباہ کے نظام، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، اور ہنگامی ردعمل میں سرمایہ کاری کے ذریعے ماحولیاتی خطرات کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ فرق صرف سیاسی عزم اور ترجیح کا ہے۔









