پاکستان نے چاول کی عالمی برآمدات میں نمایاں مقام حاصل کر لیا

0
110
پاکستان نے چاول کی عالمی برآمدات میں نمایاں مقام حاصل کر لیا

سال 2026 کے آغاز پر پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں چاول کی برآمدات میں نمایاں اضافے کے بعد پاکستان دنیا کے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی چاول، خصوصاً باسمتی، عالمی منڈیوں میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ اس رجحان سے نہ صرف زرِ مبادلہ میں اضافہ متوقع ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی استحکام ملنے کی امید ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 کے دوران چاول کی برآمدات میں ماہانہ بنیاد پر تقریباً 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی عرصے میں باسمتی چاول کی برآمدات میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی، جس میں 50 فیصد سے زائد اضافہ نوٹ کیا گیا۔
گزشتہ ماہ پاکستان نے تقریباً 4 لاکھ 89 ہزار ٹن چاول برآمد کیے، جو کئی دیگر بڑے برآمد کنندگان سے زیادہ رہے۔ اس کے مقابلے میں ویتنام کی برآمدات اس عرصے میں کم سطح پر رہیں، جس کے باعث عالمی درجہ بندی میں پاکستان کو برتری حاصل ہوئی۔
پاکستانی چاول کی بڑی منڈیاں متحدہ عرب امارات، چین، تنزانیہ، کینیا اور آئیوری کوسٹ شامل ہیں، جہاں معیار اور قیمت کے توازن نے پاکستانی مصنوعات کو مضبوط مقام دلایا ہے۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی باسمتی چاول کی خوشبو، معیار اور مناسب قیمتیں عالمی خریداروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو چاول کی برآمدات زرعی شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔
باسمتی چاول کی برآمدی اہمیت
باسمتی چاول کی عالمی منڈی میں قیمت عام چاول کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے، جس کے باعث یہ پاکستان کے لیے زیادہ منافع بخش ثابت ہو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور یورپی ممالک میں اس کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، جو خطے میں مسابقتی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ باسمتی چاول وسطی ایشیائی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی بڑھانے اور عالمی تجارتی حیثیت کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

Leave a reply