
پاکستان نے نیا سکیورٹی اسٹینڈرڈ متعارف کرا دیا
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کرپٹوگرافی اور آئی ٹی سکیورٹی سے متعلق ایک نئے قومی اسٹینڈرڈ کی منظوری دے دی ہے، جسے ‘پاکستان سکیورٹی اسٹینڈرڈ ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نیا فریم ورک پرانے اور غیر واضح TM-27 ماڈل (1994) کی جگہ لے گا، جو سکیورٹی کے جدید تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام ہو چکا تھا۔
یہ نیا اسٹینڈرڈ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی نے نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سکیورٹی بورڈ کی سفارش پر تیار کیا ہے۔
پاکستان سکیورٹی اسٹینڈرڈ جون 2028 سے باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوگا، جس کے بعد ملک میں کرپٹوگرافک اور آئی ٹی سکیورٹی ڈیوائسز کی جانچ، درجہ بندی اور سرٹیفکیشن کے لیے ایک واضح فریم ورک دستیاب ہوگا۔
اس نئے نظام کے تحت کرپٹوگرافک اور آئی ٹی سکیورٹی آلات کو چار سکیورٹی سطحوں پر پرکھا جائے گا۔ ان میں کرپٹوگرافک پرائمٹیوز، ہارڈ ویئر سکیورٹی ماڈیولز ، انکرپشن ڈیوائسز اور فائر والز شامل ہیں، جن کی انفرادی سطح پر سکیورٹی جانچ کیجائے گی۔
یہ اقدام پاکستان میں ڈیجیٹل سکیورٹی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے، جو مقامی سطح پر تیار کردہ سکیورٹی مصنوعات کی قابلیت اور عالمی معیار کے مطابق ہونیکو یقینی بنائے گا۔








