
اسلام آباد: پاکستان میں میٹا نے اپنا مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) پر مبنی چیٹ پلیٹ فارم میٹا اے آئی اب اُردو زبان میں بھی متعارف کرا دیا ہے، جس سے مقامی صارفین اب اپنی قومی زبان میں بھی گفتگو کر سکیں گے۔
یہ اعلان وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اشتراک سے منعقدہ تقریب “فیوچر اِن فوکس: اے آئی اینڈ انوویشن” میں کیا گیا، جہاں میٹا نے پاکستان میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم اور سرکاری ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے کئی نئے اقدامات کا آغاز کیا۔
تقریب میں “ٹرانسفارمنگ پبلک سیکٹر انوویشن اِن ایشیا پیسیفک وِد لاما” نامی رہنما دستاویز کا مقامی ایڈیشن بھی جاری کیا گیا، جو ڈیلوئٹ کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔ یہ دستاویز وضاحت کرتی ہے کہ میٹا کا اوپن سورس اے آئی ماڈل لاما کس طرح حکومتی نظام کو مؤثر، عوامی خدمات کو تیز تر اور ڈیٹا سیکیورٹی کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
مزید برآں، میٹا نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل (این سی ای اے سی)، ایم او آئی ٹی ٹی اور ایٹم کیمپ کے تعاون سے اے آئی لٹریسی پروگرام کا بھی آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان کی مختلف جامعات کے ۳۵۰ غیر کمپیوٹر سائنس اساتذہ کو مصنوعی ذہانت کی بنیادی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ مستقبل کے طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی کے مطابق تعلیم دے سکیں۔
اسی موقع پر گورنمنٹ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایکسپیریئنس (جی ڈی ٹی ایکس) ۲۰۲۵ پروگرام کا آغاز بھی کیا گیا جس کا مقصد سرکاری اداروں کو میٹا کی ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل حل سے مستفید کرنا ہے۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ وزیراعظم کے ڈیجیٹل نیشن وژن کے تحت پاکستان ٹیکنالوجی کی بنیاد پر بااختیار معاشرہ بننے کی سمت گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ “میٹا اے آئی میں اُردو زبان کی شمولیت ایک اہم سنگ میل ہے جو ڈیجیٹل شمولیت کو فروغ دے گی اور ہر شہری کے لیے ٹیکنالوجی کو قابلِ رسائی بنائے گی۔”
میٹا کے ریجنل ڈائریکٹر برائے جنوبی و وسطی ایشیا صارم عزیز نے کہا کہ “ہم پاکستان کے عوامی اور تعلیمی اداروں کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے جدید بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ اُردو زبان میں میٹا اے آئی کی دستیابی مقامی صارفین کے لیے نئی راہیں کھولے گی۔”
میٹا کے ان اقدامات کو پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت، تعلیم اور سرکاری خدمات کے شعبے میں تبدیلی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔









