
لندن میں منعقد ہونے والی پانچویں پاکستان ریمیٹنس سمٹ میں ماہرین نے کہا ہے کہ اگر بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنی ترسیلات مکمل طور پر قانونی ذرائع سے بھیجیں تو پاکستان کو سالانہ 50 ارب ڈالر سے بھی زیادہ زرمبادلہ حاصل ہوسکتا ہے۔
سمٹ کے منتظم فہیم فاروقی کے مطابق ہنڈی اور غیر قانونی چینلز کی حوصلہ شکنی اور باضابطہ بینکاری نظام کو فروغ دینے سے ترسیلات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
اس موقع پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندہ ڈاکٹر عنایت حسین نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے اب تک 11 ارب ڈالر پاکستان منتقل کیے جا چکے ہیں۔
پاکستان ریمیٹنس انیشیٹو کے سربراہ سید علی رضا کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تعداد 8 لاکھ 73 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جو اوورسیز پاکستانیوں کے بڑھتے اعتماد کا ثبوت ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ رقوم کی باضابطہ ترسیل نہ صرف ملکی معیشت کو مستحکم کرے گی بلکہ ترسیلات بھیجنے والوں کے لیے بھی زیادہ محفوظ اور شفاف طریقہ فراہم کرتی ہے۔








