پاکستان اور بھارت کشیدگی: اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے بھارتی اقدامات پر سنگین تحفظات ظاہر کر دیے

0
123
پاکستان اور بھارت کشیدگی: اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے بھارتی اقدامات پر سنگین تحفظات ظاہر کر دیے

اقوامِ متحدہ کے خصوصی ماہرین نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی، پہلگام واقعے اور 7 مئی کو بھارتی فوجی کارروائی سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں بھارتی اقدامات کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پہلگام حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مطابق پاکستان نے اس حملے میں کسی بھی قسم کے کردار کی تردید کی ہے اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف کوئی قابلِ تصدیق شواہد پیش نہیں کیے جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 7 مئی کو بھارت نے پاکستان کی سرحد کے اندر فوجی کارروائی کی، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کارروائی سے قبل سلامتی کونسل کو باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ حملوں کے دوران آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، مساجد کو نقصان پہنچا اور شہری ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔

اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے بتایا کہ پاکستان نے بھارتی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے سلامتی کونسل کو مطلع کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے نام پر یکطرفہ فوجی طاقت کے استعمال کا کوئی تسلیم شدہ قانونی جواز بین الاقوامی قانون میں موجود نہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی طاقت کا استعمال سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے اور اس سے خطے میں بڑے تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر بھارتی اقدام کو حملہ قرار دیا جائے تو پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہوگا، جبکہ بھارت کی کارروائی پاکستان کی خودمختاری کے خلاف سمجھی جائے گی۔

رپورٹ میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھی تحفظات سامنے آئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مطابق بھارت ثالثی کے عمل میں تعاون نہیں کر رہا اور معاہدے کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھا رہا ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ بھارت انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے اور سندھ طاس معاہدے پر نیک نیتی سے عمل درآمد یقینی بنائے۔

اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے بھارتی حکومت کو باضابطہ مراسلہ ارسال کیا تھا، جس میں پاکستان پر عائد الزامات کے شواہد، فوجی کارروائی سے ہونے والے انسانی نقصانات کے ازالے اور سندھ طاس معاہدے کی پاسداری سے متعلق وضاحت طلب کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر کے مسئلے کے پرامن حل اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام سے متعلق سوالات بھی شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کو ان سوالات کے جواب کے لیے 60 دن کی مہلت دی گئی تھی، تاہم مقررہ مدت میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جس کے بعد اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے یہ رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر بھارت کی جانب سے جواب دیا جاتا ہے تو اسے اقوامِ متحدہ کی ویب سائٹ اور ہیومن رائٹس کونسل میں رپورٹ کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔

Leave a reply