
پاکستان کے نامور ٹینس اسٹار اعصام الحق نے طویل اور کامیاب کیریئر کے بعد باقاعدہ طور پر پروفیشنل ٹینس سے ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔ وہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے اور اس دوران ملک کا نام عالمی سطح پر بلند کیا۔ اسلام آباد میں ہونے والا اے ٹی پی چیلنجر کپ کا مینز ڈبلز فائنل اُن کے کیریئر کا آخری مقابلہ تھا، جس میں وہ اپنے ساتھی کھلاڑی مزمل مرتضیٰ کے ساتھ شریک ہوئے۔ فائنل میں دونوں کھلاڑیوں کو حریف پیئر نے اسٹریٹ سیٹس میں شکست دی۔
اعصام الحق نے اپنے الوداعی میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ حریف کھلاڑیوں کو کامیابی پر مبارک باد پیش کرتے ہیں اور اپنے پورے کیریئر میں ساتھ دینے پر فیملی، کوچز، دوستوں، شائقین اور فیڈریشن کے ذمہ داران کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر آسان نہیں تھا، مگر پاکستانی پرچم کو عالمی سطح پر لہرانا ہمیشہ ان کی سب سے بڑی خواہش رہی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر کی حیثیت سے اب ان کی توجہ نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی، جدید تربیت، بین الاقوامی معیار کی سہولیات اور عالمی مقابلوں تک آسان رسائی فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اے ٹی پی ٹورنامنٹ کا انعقاد نہ صرف ایک مضبوط قدم ہے بلکہ مقامی ٹینس کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔
واضح رہے کہ اعصام الحق نے حال ہی میں پروفیشنل سرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں متعدد اے ٹی پی ٹائٹلز جیتے، گرینڈ سلیم فائنل تک رسائی حاصل کی اور پاکستان کے سب سے کامیاب ٹینس کھلاڑی کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔ ان کی ریٹائرمنٹ سے پاکستانی ٹینس کے ایک سنہری دور کا اختتام ہوگیا۔








