
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مقصد کسی پر دباؤ ڈالنا یا کوئی شرط منوانا نہیں تھا بلکہ یہ فیصلہ بنگلا دیش کو عزت دینے کے لیے کیا گیا تھا۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے اپنے مفاد کے لیے کوئی شرط عائد نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر مختلف ممالک کی اعلیٰ قیادت نے بھی رابطہ کیا اور مہمان نوازی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی امور کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت اور پی سی بی کسی دباؤ میں نہیں آئے۔
بعد ازاں پاکستان کی جانب سے بائیکاٹ ختم کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوگیا اور تصدیق کی گئی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ اتوار کو کولمبو میں کھیلا جائے گا۔
اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے سری لنکا کے صدر انورا کمارا نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کرکٹ جیسے مقبول کھیل کا تسلسل سب کے مفاد میں ہے۔ سری لنکن وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے بھی اسے خطے میں تعلقات کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔
بھارتی کرکٹ بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے کہا کہ یہ تمام فریقین کی کامیابی ہے اور آئی سی سی نے معاملے کو مؤثر انداز میں حل کیا۔ سابق بھارتی کپتان سورو گنگولی نے بھی اسے کرکٹ کے لیے خوش آئند قدم قرار دیا۔
میچ کی بحالی کے اعلان کے فوری بعد ممبئی سے کولمبو جانے والی پروازوں کے کرایوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جبکہ کولمبو کے ہوٹلوں میں بکنگ میں تیزی آگئی۔
بھارتی میڈیا میں اس فیصلے پر مختلف آرا سامنے آئیں۔ بعض تبصرہ نگاروں نے اسے آئی سی سی کے لیے مالی نقصان سے بچاؤ قرار دیا جبکہ کچھ حلقوں نے اسے سفارتی تناظر میں اہم پیش رفت کہا۔ مجموعی طور پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاک بھارت میچ کی بحالی سے ٹورنامنٹ کی اہمیت اور دلچسپی میں اضافہ ہوگا۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما ششی تھرور نے بھی میچ کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے اور کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع ملنا چاہیے۔
یوں پاک بھارت میچ کی بحالی کے ساتھ نہ صرف شائقین کرکٹ میں جوش و خروش لوٹ آیا ہے بلکہ عالمی کرکٹ حلقوں میں بھی اطمینان کی فضا قائم ہوئی ہے۔









