
ہاٹ لائن نیوز : لاہور ہائیکورٹ نے سال 2014ء میں کنٹریکٹ پر بھرتی سکول ٹیچر کی مستقلی کی درخواست پر چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن لاہور اور محکمہ سکولز ایجوکیشن پنجاب سےدوہفتوں میں جواب طلب کرلیاہے۔
جسٹس ساجدمحمود سیٹھی نے پنجاب ٹیچرزیونین کےرکن ٹیچر محمد سعودکی درخواست پر سماعت کی، پنجاب ٹیچرزیونین کی طرف سے میاں داؤد ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
میاں داؤد ایڈوکیٹ نےموقف اختیار کیا ہےکہ درخواستگزار ٹیچر کو سال 2014 میں 5 سالہ کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا جو مزید 5 سال قابل توسیع تھا، بھرتی کی شرط تھی کہ درخواستگزار نے بی ایڈ کی ڈگری مکمل کرنی تھی، محکمہ نے بی ایڈ ڈگری مکمل کرنے کیلئے کنٹریکٹ میں مزید توسیع کر دی جس پر درخواستگزار نے بی ایڈ مکمل کرکے ڈگری اپنے سکول اور مجاز اتھارٹی کو جمع کرا دی۔
فروری 2022 میں محکمے نے وجہ بتائے بغیر تنخواہ بند کر دی، سال 2023 میں ڈی او ایلمنٹری ایجوکیشن نے چیف ایگزیکٹو سے سکول ٹیچرز کی مستقلی بارے رائے بھی مانگی، میاں داؤد ایڈووکیٹ نے نشاندہی کی کہ محکمے نے سال 2014 کے تمام اساتذہ کو پنجاب بھر میں مستقل کر دیا ہے۔
لاہور، حافظ آباد سمیت دیگر اضلاع کے 2014 کے بھرتی اساتذہ کو مستقل کر دیا گیا ہے، درخواستگزار 10 سال سے مسلسل شاہدرہ سکول میں ڈیوٹی پر ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ محکمہ کو درخواستگزار کی مستقلی اور 2 سال سے زیر التواء تنخواہوں کی ادائیگی کا حکم دیا جائے۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن لاہور اورمحکمہ سکولز ایجوکیشن پنجاب سے2 ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے سکول ٹیچر کو ملازمت سےبرطرف نہ کرنے اور زیر التواء تنخواہیں بھی ادا کرنیکا حکم جاری کر دیا۔









