ٹرمپ کے امن دعوؤں پر ایران کا سخت ردعمل

0
51
ٹرمپ کے امن دعوؤں پر ایران کا سخت ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ امن مذاکرات کے بیانات پر ایرانی حکام نے محتاط اور سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایران کے مطابق ماضی کے تجربات کی روشنی میں جب بھی امریکی قیادت امن کی بات کرتی ہے تو اس کے پیچھے کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ خطے میں پہلے ہی تناؤ موجود ہے، لیکن ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد صورتحال مزید بگڑنے کا امکان ہے۔ ان کے نزدیک یہ امریکی پالیسی کا ایک تسلسل ہے، خاص طور پر ٹرمپ کے دورِ صدارت میں۔
ایرانی قیادت اس وقت سفارتی سرگرمیوں کے بجائے ممکنہ فوجی خطرات پر زیادہ توجہ دے رہی ہے، خاص طور پر زمینی کارروائی کے خدشے پر۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کی ترجیح دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانا ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں امن معاہدے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے زمینی حملہ کیا تو یہ ایک طویل اور پیچیدہ جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال امریکہ کے لیے سیاسی اور عسکری لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے پاس بڑی تعداد میں فوجی اہلکار اور نیم فوجی فورس موجود ہے، جو کسی بھی ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے اور یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور ایسی کسی بھی کارروائی کی صورت میں مخالف فریق کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

Leave a reply