ٹرمپ کی گرین لینڈ میں دلچسپی: ایک کاروباری دوست کا اثر اور امریکی پالیسی پر سوالات

0
103
ٹرمپ کی گرین لینڈ میں دلچسپی: ایک کاروباری دوست کا اثر اور امریکی پالیسی پر سوالات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے حوالے سے سامنے آنے والے غیر معمولی بیانات کے پس منظر میں ایک قریبی کاروباری ساتھی کا کردار زیرِ بحث آ گیا ہے۔ سابق امریکی قومی سلامتی مشیر جان بولٹن کے مطابق، گرین لینڈ خریدنے کا خیال ٹرمپ کی ذاتی سوچ نہیں تھا بلکہ یہ تجویز ایک بااثر کاروباری شخصیت کی جانب سے سامنے آئی تھی۔
جان بولٹن نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں انہیں اوول آفس بلایا گیا، جہاں صدر نے ذکر کیا کہ ایک معروف تاجر نے امریکا کو گرین لینڈ حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے بعد وائٹ ہاؤس میں ڈنمارک کے زیرِ انتظام اس خطے میں امریکی مفادات بڑھانے کے امکانات پر غور شروع ہوا۔
بولٹن کے مطابق یہ تجویز رونالڈ لاؤڈر کی جانب سے آئی تھی، جو عالمی کاسمیٹکس کمپنی ایسٹی لاڈر کے وارث ہیں اور کئی دہائیوں سے ٹرمپ کے ذاتی دوست سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں کی دوستی نیویارک میں تعلیم کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔
سابق مشیر کا کہنا تھا کہ لاؤڈر سے گرین لینڈ پر تفصیلی گفتگو کے بعد وائٹ ہاؤس کی ایک ٹیم کو اس معاملے پر کام سونپا گیا۔ ان کے بقول، ٹرمپ اکثر اپنے قریبی دوستوں سے سننے والی باتوں کو حتمی سچ سمجھ لیتے ہیں، جس کے بعد ان کی رائے تبدیل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ٹرمپ کے خیالات مزید سخت ہوتے گئے، یہاں تک کہ انہوں نے گرین لینڈ کے لیے صرف خریداری نہیں بلکہ طاقت کے استعمال کا امکان بھی ظاہر کیا۔ اسی عرصے میں رونالڈ لاؤڈر کے گرین لینڈ میں کاروباری مفادات میں اضافے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
رپورٹس کے مطابق لاؤڈر ایسے بین الاقوامی سرمایہ کاری گروپس سے بھی منسلک ہیں جو معدنی وسائل تک رسائی میں دلچسپی رکھتے ہیں، جن میں یوکرین کے وسائل بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ اس تناظر میں ٹرمپ کی جانب سے اتحادی ممالک سے وسائل میں شراکت کے مطالبات کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔
رونالڈ لاؤڈر اس سے قبل امریکی حکومت میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور سفارتی ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں سیاست میں قدم رکھنے کی کوشش بھی کی، تاہم کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد لاؤڈر نے ان کی انتخابی مہم کے لیے مالی تعاون کیا اور بعد میں ان کی صلاحیتوں کی تعریف بھی کی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ صدر کو بین الاقوامی امور پر غیر رسمی مشورے دیتے رہے ہیں۔
سن 2019 میں ٹرمپ کی گرین لینڈ میں دلچسپی منظرِ عام پر آنے کے بعد ڈنمارک میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ حالیہ بیانات کے بعد بھی ڈنمارک کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ نیٹو کے کسی رکن کی جانب سے دوسرے رکن کے خلاف فوجی دباؤ اتحاد کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں ٹرمپ کے قریبی حلقے سے وابستہ افراد کے کاروباری مفادات اور امریکی خارجہ پالیسی کے درمیان تعلقات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ صدر اور ان کے خاندان نے ہمیشہ مفادات کے ٹکراؤ سے گریز کیا ہے۔

Leave a reply