ٹائم میگزین نے 2025 کے ’پرسن آف دی ائیر‘ کا اعلان کر دیا

ٹائم میگزین نے سال 2025 کے لیے اپنے روایتی اعزاز پرسن آف دی ائیر کا اعلان کرتے ہوئے اس مرتبہ ان شخصیات کو منتخب کیا ہے جنہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تخلیق، ڈیزائن اور ترقی کے ذریعے دنیا کے مختلف شعبوں پر گہرا اثر ڈالا۔
ایڈیٹر ان چیف سام جیکبز کے مطابق، پرسن آف دی ائیر کا مقصد دنیا کی توجہ اُن افراد کی طرف مبذول کرانا ہوتا ہے جو ہمارے دور کی سمت کا تعین کر رہے ہوں، اور رواں سال سب سے زیادہ اثر و رسوخ انہی لوگوں کا رہا جنہوں نے اے آئی کے تصور کو حقیقت میں بدلنے کا کردار ادا کیا۔
2025 وہ سال ثابت ہوا جب اے آئی کی طاقت پوری طرح سامنے آئی۔ لوگ ہر سوال اور ہر مسئلے کے حل کے لیے تیزی سے مصنوعی ذہانت کی طرف رجوع کرنے لگے۔ طبی تحقیق، پیداواریت، پیچیدہ مسائل کے حل اور ناممکن کو ممکن بنانے کے عمل میں اے آئی نے غیر معمولی رفتار پیدا کی۔
اے آئی کے بڑھتے استعمال نے مختلف سوالات اور خدشات کو بھی جنم دیا— توانائی کے بڑھتے تقاضے، ملازمتوں میں کمی، غلط معلومات کا پھیلاؤ اور سائبر حملوں کے خدشات عالمی مباحثوں کا محور رہے۔ کچھ حالیہ پیش رفتوں میں وہیل مچھلیوں سے رابطے کی ممکنہ صلاحیت اور دہائیوں سے حل طلب ریاضیاتی مسئلے پر پیش رفت شامل ہیں۔
ٹائم میگزین نے اپنے دو خصوصی کور بھی جاری کیے ہیں۔ ایک کور میں اے آئی کے معاشرتی اثرات کو نمایاں کیا گیا ہے جبکہ دوسرے میں وہ بڑے ٹیک رہنما شامل ہیں جنہوں نے اس ٹیکنالوجی کی شکل گری میں اہم کردار ادا کیا، جن میں مارک زکربرگ، لیزا سو، ایلون مسک، جینسن ہوانگ، سیم آلٹمین، ڈیمس ہسابیس، ڈاریو اموڈی اور فی فی لی شامل ہیں۔
میگزین کے مطابق، مصنوعی ذہانت وہ طاقتور ٹیکنالوجی بن چکی ہے جو عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے میں جوہری ہتھیاروں کے بعد سب سے زیادہ اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ان تمام عوامل کے اعتراف میں، ٹائم میگزین نے 2025 کا پرسن آف دی ائیر “آرکیٹیکٹس آف اے آئی” کو قرار دیا ہے — یعنی وہ افراد جو سوچنے والی مشینوں کے اس نئے دور کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔









