
لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب، عظمیٰ بخاری نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی، معین قریشی کے خلاف ہتکِ عزت کا پہلا مقدمہ پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 کے تحت ڈیفیمیشن ٹریبونل لاہور میں دائر کر دیا ہے۔ مقدمے میں 8 کروڑ 40 لاکھ روپے کے ہرجانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات کے مطابق یہ کیس معین قریشی کے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں دیے گئے بیان کی بنیاد پر دائر کیا گیا، جس میں ان کے خلاف جھوٹے اور ہتک آمیز الزامات شامل تھے۔
معین قریشی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اطلاعات نے اسمبلی میں 150 سے 200 پیڈ افراد داخل کروائے، جسے عظمیٰ بخاری نے بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا۔ یہ بیان ٹی وی اور سوشل میڈیا پر نشر ہوا اور لاکھوں افراد نے اسے دیکھا۔
درخواست میں ویڈیو، اسکرین ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹس شواہد کے طور پر جمع کرائے گئے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے مؤقف اختیار کیا کہ جھوٹے الزامات سے ان کی عزت اور وقار کو شدید نقصان پہنچا ہے اور یہ الزام بدنیتی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا مظہر ہے۔
درخواست میں عام، تعزیری اور خصوصی ہرجانے کی تفصیلات شامل ہیں اور مدعا علیہ کے خلاف ڈگری ہرجانہ اور عدالتی اخراجات کی ادائیگی کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ مقدمے کے مطابق دعویٰ کا سبب 28 دسمبر 2025 کو پیدا ہوا اور عدالت لاہور کو مکمل دائرہ اختیار حاصل ہے۔









