
واقعہ پہلگام پر نیشنل سیکیورٹی کونسل کا اہم اجلاس
قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہونے پر عالمی فورمز سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بھارتی سفارتی اور آبی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئےوزارت خارجہ کی سفارشات منظور کر لیں گئی ہیں، بھارت کی طرف سے اٹھائے گئے یک طرفہ جارحانہ اقدامات کا بھرپور جواب دینے کے لئے قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ختم ہو گیا ہے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی صدارت میں اعلیٰ سول اور عسکری قیادت کا اہم اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزراء اور دیگر سینئر افسران بھی شریک ہوئے تھے، اجلاس میں پہلگام فالس فلیگ کے بعد کی داخلی اور خارجی صورتحال پر غور ہوا، وزارتِ خارجہ نے بھارت کی غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے خلاف تجاویز پیش کیں اور بھارت کے ان اقدامات پر مؤثر اور قانونی ردعمل تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس میں سندھ طاس معاہدہ معطلی یا منسوخی کے مختلف آپشنز پر بھی غور ہوا، بین الاقوامی انصاف عدالتِ میں جانے یا ورلڈ بینک سے ثالثی لینے پر بھی غور کیا گیا، بھارت سے شملہ معاہدہ اور دیگر تمام معاہدوں پر بھی از سرنو جائزہ لیا گیا ہے، نیشنل کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا مؤثر جواب دینے کی حکمت عملی پر بھی غور ہوا، قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان پر لگائے گئے تمام بھارتی الزامات مسترد کر دیئے ہیں اور بھارتی سفارتی اور آبی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے وزارت خارجہ کی سفارشات منظور کی گئیں ہیں، اجلاس میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر عالمی فورمز سے رجوع کرنے کا بھی فیصلہ ہوا ہے۔









