واشنگٹن میں اہم سیکیورٹی بریفنگ، امریکا کو پانچ ممالک سے خطرات لاحق

0
53
واشنگٹن میں اہم سیکیورٹی بریفنگ، امریکا کو پانچ ممالک سے خطرات لاحق

واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے ایک اہم اجلاس کے دوران قومی سلامتی سے متعلق کئی اہم نکات سامنے آئے ہیں۔ اس بریفنگ میں امریکی حکام نے دنیا کے چند ممالک کو سیکیورٹی کے حوالے سے بڑے چیلنج کے طور پر پیش کیا۔
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان، چین، روس، شمالی کوریا اور ایران اپنی میزائل صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں، جن میں بعض پروگراموں کو ایٹمی صلاحیت سے جوڑنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں پاکستان کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو براعظموں کے درمیان ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے کوئی ٹھوس تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
امریکی حکام کے مطابق چین اور روس اس وقت سب سے بڑے اسٹریٹجک حریف بن کر سامنے آئے ہیں، خاص طور پر جدید دفاعی نظام اور ٹیکنالوجی کے میدان میں۔ مصنوعی ذہانت میں بھی چین کو امریکا کے لیے سخت مقابل سمجھا جا رہا ہے۔
شمالی کوریا کے بارے میں کہا گیا کہ وہ پہلے ہی ایسے میزائل بنا چکا ہے جو امریکا تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایران کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ حالیہ کارروائیوں کے بعد اس کے میزائل اور جوہری پروگرام کو نقصان پہنچا ہے، لیکن وہ اب بھی خطے میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے کمیٹی کو بتایا کہ اگر ایران کی سرگرمیوں کو نہ روکا جاتا تو وہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں میں مزید پیش رفت کر سکتا تھا، جو یورپ تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی کوئی واضح مدت نہیں بتائی کہ ایران کب تک ایسی صلاحیت حاصل کر سکتا تھا۔
اجلاس کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ماضی میں امریکی حکام کے پاس اس بات کے واضح شواہد موجود نہیں تھے کہ ایران فوری طور پر امریکا پر کسی بڑے حملے کی تیاری کر رہا تھا۔
سینیٹ کے ارکان نے اس موقع پر حکومتی پالیسیوں، ممکنہ جنگی اخراجات اور ان کے معاشی اثرات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ٹیکس دہندگان پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
تلسی گبارڈ نے اپنی بریفنگ میں یہ بھی کہا کہ امریکا کو بیرونی خطرات کے ساتھ ساتھ شدت پسند نظریات سے بھی چیلنجز درپیش ہیں۔ ان کے مطابق بعض گروہ اب بھی سرگرم ہیں اور اپنے نظریات کے ذریعے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2025 کے دوران امریکا میں دہشت گردی کے چند واقعات پیش آئے، جن میں ایک حملہ مشی گن میں بھی شامل تھا، جہاں مبینہ طور پر حملہ آور کے روابط ایک غیر ملکی گروہ سے جوڑے گئے۔
یہ بریفنگ مجموعی طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکا کو بیک وقت کئی عالمی اور اندرونی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے مسلسل نگرانی اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

Leave a reply