نیشنل سائبر کرائم ایجنسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تیاری

0
101
نیشنل سائبر کرائم ایجنسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تیاری

اسلام آباد: ملک کی اہم نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی میں اصلاحاتی اقدامات کے تحت وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ادارے کے اندر مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں اور بدعنوانی کی اطلاعات کے بعد حکومت نے اعلیٰ سطح پر کارروائی کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اہم انتظامی عہدوں پر ردوبدل کیا جا رہا ہے، جبکہ سینئر پولیس افسر سید خرم علی کو کلیدی ذمہ داری سونپنے پر غور جاری ہے۔ ساتھ ہی، متعدد افسران کے خلاف انضباطی کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جن پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کچھ افسران کو ملازمت سے برخاست کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ تحقیقات کا دائرہ بھرتیوں، عہدوں کی غیر قانونی اپ گریڈیشن، اور جعلی دستاویزات پر مبنی ترقیوں تک وسیع کیا جائے گا۔

حکومتی ہدایت پر ان افسران کے خلاف سابقہ انکوائریوں اور فوجداری کیسز کو بھی دوبارہ کھولا جا رہا ہے تاکہ شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، ان کے مالی معاملات، منی لانڈرنگ، بیرون ملک رقوم کی منتقلی، اور کرپٹو کرنسی میں ممکنہ سرمایہ کاری کے پہلوؤں کی بھی تفصیلی چھان بین ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اس حساس نوعیت کی انکوائری ایسے افسران کے سپرد کرنا چاہتی ہے جن کی ساکھ بے داغ ہو اور جو سیاسی یا انتظامی دباؤ سے بالاتر ہو کر کام کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ایک سینئر اہلکار کے مطابق، اس بار تحقیقات مکمل طور پر آزاد اور ناقابلِ اثر رسوخ افسران کی نگرانی میں کی جائیں گی۔

Leave a reply