نیب کا ون کلک سسٹم: ہاؤسنگ اسکیم کی قانونی حیثیت فوراً چیک ہو سکے گی

0
75
نیب کا ون کلک سسٹم: ہاؤسنگ اسکیم کی قانونی حیثیت فوراً چیک ہو سکے گی

اسلام آباد: نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں بڑھتے ہوئے فراڈ کے تدارک کیلئے قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک جدید ’’ڈیجیٹل ون کلک ڈسکلوژر‘‘ سسٹم متعارف کرانے کی تجویز پیش کی ہے، جس کے ذریعے خریدار کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم کی قانونی حیثیت، منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور کسی مخصوص پلاٹ کی موجودگی فوری طور پر چیک کر سکیں گے۔

نیب راولپنڈی نے نجی ہاؤسنگ سیکٹر میں بے ضابطگیوں اور دھوکہ دہی کو روکنے کیلئے چار نکاتی اصلاحاتی فریم ورک تیار کیا ہے۔ یہ نظام ابتدائی طور پر اسلام آباد اور راولپنڈی میں لاگو کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جہاں ہزاروں شہری ایسے پلاٹس کی خریداری میں اربوں روپے گنوا چکے ہیں جو نقشوں میں موجود ہی نہیں تھے۔

اصلاحات کے اہم نکات

نیب نے وزارتِ ہاؤسنگ، سی ڈی اے اور آر ڈی اے کو جو تجاویز بھجوائی ہیں، ان میں شامل ہیں:

1. مرکزی آن لائن پورٹل: تمام منظور شدہ ہاؤسنگ اسکیموں کے لے آؤٹ پلان ایک ہی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہوں گے تاکہ عوام اسکیم کے دعووں کی خود تصدیق کر سکیں۔

2. سکیورڈ الاٹمنٹ لیٹرز: ہر منظور شدہ پلاٹ کیلئے کیو آر یا بار کوڈ والا لیٹر جاری کیا جائے گا جو سرکاری ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگا تاکہ اوور سیلنگ روکی جا سکے۔

3. ایسکرو اکاؤنٹ کا قیام: ہر منصوبے کیلئے ایک لازمی نگرانی شدہ اکاؤنٹ ہوگا، جس سے رقوم صرف ترقیاتی کاموں پر خرچ کی جا سکیں گی۔

4. امینٹی پلاٹس کی غیر قانونی فروخت قابل سزا جرم: عوامی مقاصد کیلئے مختص زمین بیچنے والوں کے خلاف سخت فوجداری کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

ڈیجیٹل سسٹم کے فوائد

اس مجوزہ نظام کے ذریعے خریدار صرف ایک کلک میں معلوم کر سکیں گے کہ:

متعلقہ پلاٹ واقعی منظوری شدہ نقشے میں موجود ہے یا نہیں،

ہاؤسنگ اسکیم باقاعدہ طور پر منظور شدہ ہے یا غیر قانونی،

منصوبے کی موجودہ ترقیاتی صورتحال کیا ہے۔

نیب حکام کے مطابق اس اقدام سے شہریوں کو مکمل معلومات دستیاب ہوں گی، جبکہ جعل ساز ڈویلپرز کے جھوٹے دعوے آسانی سے بے نقاب ہو جائیں گے۔ ایک سینئر افسر کے مطابق شفافیت صرف قوانین سے نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے یقینی بنائی جائے گی۔

ایسکرو سسٹم کیلئے تفصیلی طریقہ کار

نیب نے سی ڈی اے کو ایسکرو نظام کے عملی نفاذ کیلئے 15 نکاتی رہنما اصول بھی فراہم کیے ہیں، جو مرکزی ڈیجیٹل پورٹل کے ساتھ جڑ کر مالی اور ترقیاتی شفافیت میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ڈی جی نیب وقار احمد چوہان نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اصلاحات متعدد متاثرین کی مشکلات کے تدارک کا ذریعہ بنیں گی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈویلپرز کی جانب سے منصوبے چھوڑ دینے، رقوم ہڑپ کرنے اور جعلی فروخت کے باعث شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

حالیہ انکشافات کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں 91 ہزار سے زائد غیر قانونی پلاٹ فروخت کیے گئے جبکہ تقریباً 80 ہزار کنال اضافی رقبہ نقشوں سے ہٹ کر بیچا گیا۔ مبینہ طور پر کھربوں روپے کا یہ اسکینڈل جڑواں شہروں کی نجی ہاؤسنگ اسکیموں میں ہونے والی سب سے بڑی بے ضابطگی قرار دیا جا رہا ہے۔

Leave a reply