نقاب پوش افراد کی بڑی واردات، رینوار اور ماٹیس کے شاہکار غائب

0
72
نقاب پوش افراد کی بڑی واردات، رینوار اور ماٹیس کے شاہکار غائب

اٹلی کے شمالی شہر پارما کے قریب واقع میگنانی روکا فاؤنڈیشن میں ایک بڑی آرٹ چوری کی واردات پیش آئی، جہاں نامور مصوروں کے تین قیمتی فن پارے محض چند منٹوں میں چرا لیے گئے۔
پولیس کے مطابق 22 اور 23 مارچ کی درمیانی شب چار نقاب پوش افراد میوزیم کی عمارت میں داخل ہوئے اور پہلی منزل کا دروازہ توڑ کر اندر پہنچ گئے۔ الارم بجنے کے باوجود ملزمان نے تیزی سے کارروائی مکمل کی اور باغات کے راستے فرار ہو گئے۔ سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پوری واردات صرف تین منٹ میں انجام دی گئی۔
چوری ہونے والے فن پاروں میں فرانسیسی مصور پیئر اگست رینوار کی 1917 کی آئل پینٹنگ “لی پواسن”، پال سیزان کی 1890 کی واٹر کلر پینٹنگ “کپ اینڈ پلیٹ آف چیریز”، اور ہنری ماٹیس کا 1922 کا فن پارہ “اوڈالیسک آن دی ٹیرس” شامل ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے کو ابتدائی طور پر خفیہ رکھا گیا تاکہ اگر ملزمان دوبارہ علاقے میں آئیں تو انہیں گرفتار کیا جا سکے۔ میوزیم کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم ڈکیتی تھی، جس میں پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا گیا۔
یہ فاؤنڈیشن اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد ہے کیونکہ یہ دنیا کے مختلف عجائب گھروں اور گیلریوں سے شاہکار فن پارے حاصل کر کے نمائش کے لیے پیش کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اس کے بین الاقوامی اداروں سے روابط بھی قائم ہیں۔
اٹلی کی خصوصی آرٹ پولیس، جسے کارابینیری یونٹ کہا جاتا ہے، چوری شدہ فن پاروں کی تلاش میں متحرک ہو چکی ہے۔ اس یونٹ کے پاس عالمی سطح پر چوری شدہ آرٹ کی نشاندہی کے لیے جدید نظام موجود ہے۔
اس واقعے نے نہ صرف اٹلی کے آرٹ سیکٹر کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ عالمی آرٹ مارکیٹ کی حساسیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ تاحال کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی، تاہم میوزیم معمول کے مطابق عوام کے لیے کھلا ہے۔

Leave a reply