نئی دہلی کار بم دھماکہ: امریکا کی بھارت کو تحقیقات میں مدد کی پیشکش

نئی دہلی میں تاریخی لال قلعہ کے قریب ہونے والے کار بم دھماکے کے بعد امریکا نے بھارت کو تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ بھارتی حکام اس واقعے کی پیشہ ورانہ تحقیقات کر رہے ہیں، اور اگر ضرورت پڑی تو امریکا تکنیکی اور فرانزک سطح پر مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
کینیڈا میں وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف بھارت کے ساتھ ہے۔ ان کے مطابق، “ہمیں یقین ہے کہ بھارتی ادارے اس واقعے کی تہہ تک پہنچ جائیں گے، اور اگر بھارت چاہے تو ہم ہر ممکن تعاون کریں گے۔”
پیر کی شام لال قلعہ کے قریب مصروف علاقے میں ہونے والے دھماکے سے کم از کم دس افراد جاں بحق اور چوبیس سے زائد زخمی ہوئے۔ واقعے کے وقت بڑی تعداد میں لوگ دفاتر اور بازاروں سے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ بھارتی حکومت نے اسے دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ یہ حملہ ملک دشمن عناصر کی سازش ہے، جس کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، سکیورٹی فورسز نے مختلف ریاستوں میں چھاپوں کے دوران دھماکا خیز مواد، ڈیٹونیٹرز، ٹائمرز اور بم سازی کا سامان برآمد کیا ہے۔ وزارت داخلہ نے دہلی، اترپردیش اور ہریانہ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے جبکہ انٹیلیجنس اور بم ڈسپوزل ٹیمیں شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔
مارکو روبیو نے اسی موقع پر اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات غزہ میں جاری امن کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔ روبیو نے مزید بتایا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اگلے ہفتے واشنگٹن کا دورہ کریں گے، جہاں مشرقِ وسطیٰ کے امن اور علاقائی تعاون پر بات چیت متوقع ہے۔









