نئی دہلی دھماکا: عینی شاہد کے انکشافات نے سرکاری موقف پر سوال اٹھا دیے

نئی دہلی میں لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعد واقعے کی تفصیلات سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں۔ عینی شاہد دھرمندر کے مطابق دھماکے میں متاثر ہونے والی گاڑی سفید رنگ کی ماروتی تھی، جس کے اندر سے چار جلی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، جبکہ دو افراد موقع پر جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوا۔
گواہ نے بتایا کہ گاڑی کی نمبر پلیٹ ہریانہ کے رہائشی محمد ندیم کے نام پر درج تھی۔ تاہم مختلف سرکاری و غیر سرکاری بیانات میں تضاد پایا جا رہا ہے۔ عینی شاہد کے بقول گاڑی ماروتی تھی، لیکن بعض حکومتی حلقے اور بھارتی میڈیا اسے ہونڈائی قرار دے رہے ہیں۔
اسی طرح گاڑی کے مالک کے نام کے حوالے سے بھی مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں۔ گواہ کے مطابق مالک کا نام ندیم ہے، مگر سوشل میڈیا پر بعض لوگ اسے سلمان یا طارق بتا رہے ہیں۔
دہلی فائر ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد چھ گاڑیاں اور تین رکشے آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق اب تک دس افراد کی لاشیں لائی جا چکی ہیں، جبکہ چوبیس زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
واقعے کی تفتیش جاری ہے اور حکام نے دھماکے کی نوعیت جاننے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔









