نئی بھارتی جنگی فلم ’بارڈر 2‘ تنقید کی زد میں

0
157
نئی بھارتی جنگی فلم ’بارڈر 2‘ تنقید کی زد میں

بھارتی فلم انڈسٹری کی ایک نئی جنگی فلم کا ٹیزر حال ہی میں جاری کیا گیا ہے، جس میں ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان 1971 کی جنگ کو موضوع بنایا گیا ہے۔ فلم کا نام ’بارڈر 2‘ بتایا جا رہا ہے، جو ماضی میں بننے والی فلم بارڈر کا تسلسل سمجھی جا رہی ہے۔

ٹیزر میں معروف اداکار سنی دیول کو روایتی جارحانہ انداز اور جنگی مکالموں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ ایک منظر میں ان کے مکالمے کے جواب میں فوجی کرداروں کی جانب سے “لاہور تک” کا نعرہ سنائی دیتا ہے، جسے بھارتی تناظر میں حب الوطنی کے اظہار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ تاہم پاکستانی ناظرین اور بعض مبصرین کے مطابق یہ منظر ایک بار پھر پاکستان مخالف بیانیے کی جھلک پیش کرتا ہے، جو اس نوعیت کی فلموں میں پہلے بھی دیکھنے میں آ چکا ہے۔

فلم کی کاسٹ میں ورون دھون، دلجیت دوسانجھ اور اہن شیٹی بھی شامل ہیں، جبکہ اس کی ریلیز کی تاریخ 23 جنوری 2026 مقرر کی گئی ہے۔

ٹیزر کے اجرا کے بعد سوشل میڈیا پر فلم کے تکنیکی پہلوؤں، خاص طور پر بصری اثرات، پر تنقید کی جا رہی ہے۔ متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ جنگ جیسے بڑے اور حساس موضوع کے لیے استعمال کیے گئے ویژول ایفیکٹس غیر معیاری محسوس ہوتے ہیں، جس سے فلم کی مجموعی تاثیر متاثر ہوتی ہے۔

فلمی تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا میں پہلے ہی سیاسی اور سفارتی کشیدگی پائی جاتی ہے، اور اس قسم کی فلمیں خطے میں منفی جذبات کو مزید ہوا دے سکتی ہیں، بالخصوص جب مواد فکری گہرائی اور تکنیکی معیار دونوں اعتبار سے مضبوط نہ ہو۔

Leave a reply