مولانا فضل الرحمان کاحکومت مخالف تحریک چلانےکااعلان

0
105
مولانا فضل الرحمان کاحکومت مخالف تحریک چلانےکااعلان

مردان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ماضی کی حکومتوں کے خلاف تحریکیں چل سکتی ہیں تو موجودہ حکومت پر بھی سوال اٹھانا کوئی معیوب بات نہیں۔ ان کے مطابق ملک میں آئین کو کھیل بنا دیا گیا ہے اور فیصلے عوامی خواہشات کے بجائے مخصوص طاقتور طبقات کے مفاد میں کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے فلسطینی مسلسل متاثر ہو رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ملکی قیادت کی جانب سے انہیں امن کا ایوارڈ دلوانے کی بات کرنا افسوسناک ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات پر بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ انہوں نے مسلح گروہوں سے ہتھیار چھوڑنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں بن سکتی۔

معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور پاکستان وہ نہیں رہا جس کی عوام نے امیدیں وابستہ کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے قیام کا مقصد دینی آزادی، اسلامی نظام اور امن تھا لیکن آج عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

انہوں نے پارلیمانی ترامیم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، ان کے مطابق 27ویں ترمیم جعلی اکثریت کے ذریعے منظور کی گئی اور اراکینِ پارلیمنٹ کو خرید کر اکثریت حاصل کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک بدستور رکا ہوا ہے اور آج کی ترمیم بھی مخصوص مفادات کو تحفظ دینے کے لیے منظور کی گئی۔

افغانستان پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 78 سال میں پاکستان کابل کے ساتھ مضبوط دوستی قائم نہیں کر سکا اور موجودہ پالیسی مکمل ناکامی سے دوچار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مغربی ایجنڈے پر عملدرآمد کا تاثر تو ماضی کی حکومت سے جوڑا جاتا تھا لیکن حقیقت میں موجودہ حکمران اسی راہ پر چل رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ اگر حکومتی پالیسیوں کا سلسلہ یہی رہا تو ان کی جماعت مزاحمت جاری رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر حکومت مخالف تحریک بھی چلائے گی۔

Leave a reply