
ملک کے مختلف خطوں میں وقفے وقفے سے ہونے والی برفباری کے باعث روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو گئی ہے۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے کئی علاقوں میں برف اور بارش کے نتیجے میں اہم شاہراہیں بند ہو چکی ہیں، جس سے زمینی نقل و حرکت معطل ہو گئی ہے۔
شدید موسمی صورتحال کے پیش نظر مری اور گلیات میں سیاحوں کے داخلے پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں نے عوام کو غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی ہے۔
آزاد کشمیر میں ریشاں لیپہ موجی روڈ پر برف میں پھنسنے والے چار افراد کو مقامی افراد کی مدد سے شیر گلی کے مقام سے بحفاظت نکال لیا گیا۔ ریسکیو کارروائی کے دوران کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
گلگت بلتستان میں بارش اور برفباری کے بعد ضلع غذر کی تمام تحصیلوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ یاسین اور پھنڈر میں ایک فٹ سے زائد جبکہ سکردو اور اطراف میں پانچ انچ برف پڑ چکی ہے۔ کھرمنگ، شگر اور گانچھے کی متعدد سڑکیں بھی بند ہو گئی ہیں۔
خیبرپختونخوا کے جنوبی وزیرستان، اورکزئی، لوئر اور اپر دیر میں شدید برفباری کے باعث رابطہ سڑکیں متاثر ہوئی ہیں۔ مالم جبہ میں 37 انچ، کالام میں سات اور پاراچنار میں پانچ انچ تک برف ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرپٹوڈنڈا میں پھنسے آٹھ افراد کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ شاہراہ کاغان اور پارس کے علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک معطل ہے۔
گلیات میں ایک فٹ تک برف پڑنے سے شہری گھروں میں محصور ہو گئے ہیں۔ مری میں دن بھر برفباری جاری رہی، تاہم ایکسپریس وے کو ٹریفک کے لیے کھلا رکھا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں اب تک نو انچ برف پڑ چکی ہے۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کوئٹہ میں پانچ اور قلات میں دو انچ برف ریکارڈ کی گئی، جبکہ زیارت، مستونگ، کان مہترزئی اور مسلم باغ میں نظامِ زندگی متاثر ہوا ہے۔ سندھ کے سیاحتی مقام گورکھ ہل پر بھی موسمِ سرما کی پہلی برفباری کے بعد درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے چلا گیا ہے۔
آزاد کشمیر کے دیہی علاقوں میں بند سڑکوں کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بھیڈی کے علاقے میں ایک مریض کو اسٹریچر پر ڈال کر باغ اسپتال منتقل کیا گیا۔ مقامی افراد نے سڑکوں کی بحالی، ایمبولینس کی دستیابی اور طبی سہولیات کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔









