
اسلام آباد: سیکرٹری پیٹرولیم نے خبردار کیا ہے کہ 14 اپریل کے بعد ملک میں ایل این جی کی سپلائی ممکن نہیں ہوگی، جس کے باعث اپریل میں پاور سیکٹر کی گیس کی ضروریات پوری نہیں کی جا سکیں گی۔ اس صورتحال میں پاور سیکٹر کی ضروریات دیگر ذرائع سے پوری کی جائیں گی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور دستیابی کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری پیٹرولیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے سپلائی متاثر ہوئی ہے، کیونکہ پاکستان اپنی تقریباً 70 فیصد پیٹرولیم مصنوعات مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 187 ڈالر اور پیٹرول کی قیمت 74 ڈالر فی بیرل سے 130 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اوگرا کے مطابق 7 مارچ سے قبل ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 100 فیصد اور پیٹرول کی قیمت میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سیکرٹری پیٹرولیم نے ملک میں موجود پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی تفصیلات بھی فراہم کیں: خام تیل کے 11 دن، ڈیزل کے 21 دن، پیٹرول کے 27 دن، ایل پی جی کے 9 دن اورجےپی ون کے 14 دن کےذخائر موجود ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والوں کے لیے حکومت ریلیف پیکیج پر کام کر رہی ہے۔ ایل این جی کی خریداری کے لیے آذربائیجان سے اسپاٹ خریداری ممکن ہے، لیکن قیمت 24 ڈالر فی یونٹ ہوگی، جبکہ قطر سے ایل این جی 9 ڈالر فی یونٹ پر دستیاب ہے۔









