ملک میں سیاسی ماحول میں تناؤ: پی ٹی آئی کے مستقبل پر بحث جاری

0
140
ملک میں سیاسی ماحول میں تناؤ: پی ٹی آئی کے مستقبل پر بحث جاری

ملک میں سیاسی ماحول سرد موسم کے ساتھ مزید گرم ہوتا جا رہا ہے، اور اس کی مرکزی توجہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مستقبل پر مرکوز ہے۔ مختلف حلقوں میں پی ٹی آئی پر پابندی کے امکانات اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے قیام پر باتیں زیرِ غور ہیں۔ اسی دوران اطلاعات آئیں کہ حکومت عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کسی اور مقام پر منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر ایک کو نشانہ بنایا گیا تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا اور ایسے حالات پر حکومت کا قابو مشکل ہو جائے گا۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے اڈیالہ جیل کے باہر روزانہ احتجاجات کو شہری زندگی کے لیے پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی منتقلی پر غور اس لیے کیا جا رہا ہے کہ نظام زندگی متاثر ہو رہا ہے۔ تاہم، اڈیالہ جیل ذرائع نے اس بات کی تردید کی اور کہا کہ عمران خان کی منتقلی کا کوئی فیصلہ یا زیرِ غور معاملہ موجود نہیں ہے اور ان کی سیکیورٹی و خوراک کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے بھی واضح کیا گیا کہ اگر بانی کو منتقل کیا گیا تو پارٹی رہنما، کارکن اور ان کی بہنیں پہلے کی طرح وہاں پہنچیں گے، کیونکہ عوام اور بانی کے درمیان رابطہ برقرار رہنا ضروری ہے۔

ادھر، بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حق میں نہیں ہیں، لیکن اگر کوئی سیاسی جماعت دہشت گردوں کی حمایت کرے تو پھر گورنر راج لگانا مجبوری ہو سکتی ہے۔ اس بیان نے سیاسی مباحث میں ایک نیا زاویہ شامل کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی نے صورتحال کے پیش نظر رابطے تیز کر دیے ہیں اور “مائنس نون لیگ” کے عنوان سے قومی کانفرنس کی تیاری شروع کر دی ہے، جس میں اہم اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کے پاس عوامی حمایت ہوتی تو ناکے عبور کرنا آسان ہوتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کارکن واٹر کینن کے سامنے بھاگ گئے اور کچھ لوگ گٹر میں بھی گر گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے خلاف کسی بھی فیصلے کی قانونی بنیاد مضبوط ہوگی۔

سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ نو مئی کے واقعات کو بھلانا ممکن نہیں، اور سیاستدانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی غلطیاں تسلیم کریں اور نوجوانوں کو تباہ کاری کی طرف نہ لے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں کسی کو غدار کہنا مناسب نہیں بلکہ مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

ملک کی سیاسی صورتحال کے مزید کس رخ جانے کا انحصار آئندہ کے فیصلوں پر ہوگا، تاہم موجودہ بیانات نے بحث کو اور زیادہ شدت دے دی ہے۔

Leave a reply