مصنوعی ذہانت کے بڑھتے رجحان سے انسانی یادداشت اور تنقیدی سوچ متاثر ہونے لگی

0
115
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے رجحان سے انسانی یادداشت اور تنقیدی سوچ متاثر ہونے لگی

جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے فروغ نے جہاں زندگی کو سہل بنایا ہے، وہیں انسانی دماغ کی فکری مشق اور یادداشت پر اس کے منفی اثرات بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انسان اب بہت سی معلومات یاد رکھنے کے بجائے صرف انہیں تلاش کرنے پر انحصار کرنے لگا ہے، جس سے دماغ کی فطری صلاحیتیں کمزور پڑ رہی ہیں۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مسلسل ڈیجیٹل سہولتوں پر انحصار نے تجزیاتی اور تخلیقی سوچ کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر تعلیمی شعبے میں، جہاں پہلے روایتی تدریسی طریقے طلباء کی یادداشت اور فہم کو جلا بخشتے تھے، اب وہاں اے آئی پر ضرورت سے زیادہ اعتماد دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے طلباء کی سیکھنے، یاد رکھنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔

ماہرین تعلیم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تعلیمی نظام کو یوں ترتیب دیا جائے کہ اے آئی کو محض ایک مددگار ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے، نہ کہ انسانی دماغ کی جگہ لینے والا آلہ سمجھا جائے۔ ان کے مطابق یادداشت کو بہتر بنانے کے لیے معلومات کا بار بار دہرانا، دماغی مشق اور فکری تجزیہ ضروری ہیں۔

سائنسدانوں نے “ڈیجیٹل ایمنیشیا” یا “گوگل ایفیکٹ” جیسے رجحانات کی نشاندہی کی ہے، جن کے تحت افراد یہ جان کر کہ معلومات باآسانی انٹرنیٹ پر موجود ہیں، انہیں خود یاد رکھنے کی کوشش کم کرتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف یادداشت کمزور ہوتی ہے بلکہ تنقیدی سوچ کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔

برطانوی ماہر تعلیم کارل ہینڈرک کے مطابق، ’’سب سے جدید اے آئی بھی صرف انسان کی نقل کر سکتا ہے، مگر اس کے لیے سوچ نہیں سکتا۔‘‘

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ انسان کی اندرونی صلاحیتیں جیسے ہمدردی، تخلیق اور جذبات سے جڑی یادداشتیں ایسی خداداد خوبیاں ہیں جنہیں کوئی مشین نہیں اپنا سکتی۔ انسانی یادداشت صرف معلومات جمع کرنے کا عمل نہیں بلکہ اس میں جذبات، تجربات اور احساسات کی آمیزش بھی شامل ہوتی ہے۔

ان تمام پہلوؤں کے پیش نظر ماہرین نے “علمی تکمیل” کا تصور پیش کیا ہے، جس کے تحت انسانی سوچ اور اے آئی کو ایک دوسرے کا معاون بنایا جا سکتا ہے، نہ کہ متبادل۔

تیزی سے بدلتے اس ٹیکنالوجی کے دور میں انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی فکری، تحلیلی اور یادداشت کی صلاحیتوں کو برقرار رکھے تاکہ اے آئی کے ساتھ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں اور ذہنی انحطاط سے بچا جا سکے۔

Leave a reply