
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف تیل کی عالمی سپلائی بلکہ دنیا کے ڈیجیٹل نظام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، خلیج فارس اور بحیرہ احمر کے اہم سمندری راستوں میں موجود سب میرین فائبر آپٹک کیبلز کو کسی بھی نقصان کی صورت میں عالمی انٹرنیٹ سروس شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب ایسے اہم بحری راستے ہیں جہاں سے دنیا کا بڑا ڈیٹا ٹریفک گزرتا ہے۔ ان علاقوں میں تقریباً 20 بڑی انٹرنیٹ کیبلز بچھائی گئی ہیں جو ایشیا، یورپ اور افریقہ کو آپس میں جوڑتی ہیں۔ ان کیبلز کے ذریعے بینکنگ، اسٹاک مارکیٹ، اسپتالوں اور دیگر اہم نظاموں کا ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔
ٹیلی کمیونیکیشن ماہرین کے مطابق، اگر ان کیبلز کو نقصان پہنچتا ہے تو دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار سست ہو سکتی ہے، جبکہ کئی ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر معطل بھی ہو سکتی ہیں۔ ماضی میں بھی بحیرہ احمر میں کیبلز متاثر ہونے سے متعدد خطوں میں انٹرنیٹ کی کارکردگی متاثر ہو چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث کچھ بڑے سب میرین کیبل منصوبوں پر کام عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، مرمت کرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت بھی محدود ہو گئی ہے، جس سے کسی بھی ممکنہ نقصان کی صورت میں بحالی کا عمل تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر میں کم گہرائی پر موجود یہ کیبلز نسبتاً زیادہ حساس ہوتی ہیں اور انہیں نقصان پہنچانا آسان ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ڈیٹا کو متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑے گا، جس سے عالمی سطح پر انٹرنیٹ کی رفتار اور کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
فی الحال عالمی انٹرنیٹ سسٹم معمول کے مطابق کام کر رہا ہے، تاہم صورتحال غیر یقینی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور ڈیجیٹل رابطوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید دنیا کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کس قدر حساس ہے اور علاقائی تنازعات بھی عالمی سطح پر بڑے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔








