
مس یونیورس 2025 میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی روما ریاض نے حالیہ سوشل میڈیا تنقید پر پہلی بار کھل کر ردِعمل دیا ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے ان کی جلد کے رنگ، جسمانی ساخت اور ظاہری شکل کے بارے میں منفی تبصروں نے بحث چھیڑ رکھی تھی، جس میں انہیں ”بہت سانولی“، ”بھاری“ اور ”غیر خوبصورت“ جیسے القابات دیے جا رہے تھے۔ کچھ صارفین نے انہیں رنگ گورا کرنے کے طریقے اپنانے کے مشورے بھی دیے۔
انسٹاگرام پر جاری کی گئی ویڈیو میں روما ریاض نے کہا کہ وہ اپنی سانولی رنگت پر فخر کرتی ہیں اور اپنے دکھنے کے انداز پر کبھی معافی نہیں مانگیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں خوبصورتی کے غیر حقیقی معیارات خواتین کے اعتماد کو مسلسل نقصان پہنچاتے ہیں۔
روما نے اس تنقید کو ملک کی شبیہ کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختلاف اپنی جگہ، مگر قومی عزت کا خیال رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے سے اندازہ تھا کہ گہری رنگت کے ساتھ عالمی اسٹیج پر آنا سب کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوگا، مگر وہ امید رکھتی ہیں کہ ان کا یہ قدم آئندہ آنے والی لڑکیوں کے لیے راستہ ہموار کرے گا۔
معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر بلال حسن نے بھی اس معاملے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ روما پر ہونے والی تنقید معاشرے میں موجود “گورا رنگ” کی سوچ کی عکاس ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی حقیقی خوبصورتی ہمیشہ سانولی اور بااعتماد خواتین نے پیش کی ہے۔
روما ریاض اس وقت 21 نومبر 2025 کو تھائی لینڈ میں ہونے والے 74ویں مس یونیورس مقابلے کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور مسلسل تنقید کے باوجود پُرعزم ہیں کہ وہ عالمی سطح پر پاکستان کی بہترین نمائندگی کریں گی۔








