مستعفی سپریم کورٹ ججز: پنشن اور مراعات کی تفصیلات سامنے آ گئیں

0
150
مستعفی سپریم کورٹ ججز: پنشن اور مراعات کی تفصیلات سامنے آ گئیں

سپریم کورٹ کے سابق ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد استعفیٰ دینے کے نتیجے میں خطیر مالی مراعات اور پنشن حاصل کی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ کو کمیوٹڈ پنشن کی مد میں تقریباً 16 کروڑ 10 لاکھ روپے جبکہ جسٹس اطہر من اللہ کو 15 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد رقم ادا کی گئی۔
ذرائع کے مطابق دونوں سابق ججز کو تاحیات ماہانہ پنشن بھی دی جا رہی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ کی مجموعی ماہانہ پنشن 12 لاکھ 20 ہزار 381 روپے بنتی ہے، جبکہ جسٹس منصور علی شاہ کو ماہانہ 11 لاکھ 35 ہزار 496 روپے پنشن مل رہی ہے۔
پنشن کی تفصیل کے مطابق جسٹس اطہر من اللہ کو ڈرائیور پنشن، خصوصی اضافی پنشن اور طبی سہولیات کے الاونسز بھی دیے جا رہے ہیں، جبکہ جسٹس منصور علی شاہ کی پنشن میں بھی ڈرائیور پنشن اور میڈیکل الاونس شامل ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ برس اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور الاونسز میں نمایاں اضافہ کیا تھا۔ وزارتِ قانون کے نوٹیفکیشن کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کے لیے ہاؤس رینٹ کو بڑھا کر 3 لاکھ 50 ہزار روپے کر دیا گیا تھا، جبکہ سپیریئر جوڈیشل الاونس کو بڑھا کر 11 لاکھ 61 ہزار روپے سے زائد کر دیا گیا۔
سروس ریکارڈ کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے تقریباً 16 سال جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے 11 سال سے زائد بطور جج خدمات انجام دیں۔ دونوں ججز نے نومبر 2025 میں 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دیا تھا، جسے بعد ازاں صدرِ مملکت نے باضابطہ طور پر منظور کر لیا۔
سپریم کورٹ ججز آرڈر 1997 کے تحت، دونوں سابق ججز کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی متعدد سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں طبی سہولت، رہائش، مکمل عملہ، سرکاری گاڑی و ایندھن، سیکیورٹی، یوٹیلیٹی بلز کی حد اور اہلِ خانہ کے لیے مخصوص مراعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنی زیرِ استعمال سرکاری گاڑی رعایتی قیمت پر خریدنے کے بھی اہل ہیں۔

Leave a reply