مریخ پر پانی سے بنے غاروں کی پہلی نشاندہی، زندگی کے امکانات بڑھ گئے

0
51
مریخ پر پانی سے بنے غاروں کی پہلی نشاندہی، زندگی کے امکانات بڑھ گئے

چینی سائنسدانوں نے مریخ کے شمالی علاقے ہیبرس ویلیز میں آٹھ ایسے غار دریافت کیے ہیں جو ممکنہ طور پر زیرِ زمین پانی کی موجودگی سے بنے تھے۔ اگر یہ نتیجہ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ مریخ پر پانی سے بننے والے غاروں کی پہلی تصدیق ہوگی۔
اس سے پہلے مریخ پر دریافت ہونے والے زیادہ تر غار آتش فشانی سرگرمیوں کے نتیجے میں بنے سمجھے جاتے تھے، لیکن اس نئی دریافت نے یہ سوچ بدل دی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ان غاروں کی ساخت زمین پر پائے جانے والے کارسٹ غاروں سے مشابہت رکھتی ہے، جو عام طور پر چونے یا دیگر حل پذیر چٹانوں کے پانی میں گھلنے سے بنتے ہیں۔
مطالعے میں ناسا کے مختلف سیٹلائٹس کا ڈیٹا استعمال کیا گیا، جن میں ریٹائر ہو چکا مارس گلوبل سروے بھی شامل ہے۔ تصاویر اور تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ غار عام شہابی گڑھوں جیسے نہیں ہیں، کیونکہ ان کے کنارے اونچی دیواروں یا ملبے کے ڈھیر سے خالی ہیں۔ سائنسدانوں نے ان سوراخوں کو اسکائی لائٹس قرار دیا ہے، یعنی وہ مقامات جہاں زمین کے بیٹھنے سے نیچے موجود خالی غار کھل گیا ہو۔
مزید تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ان کے اردگرد چٹانوں میں کاربونیٹس اور سلفیٹس موجود ہیں، جو عام طور پر پانی کی موجودگی میں بنتے ہیں۔ اس سے اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ مریخ کے زیرِ زمین حصوں میں کبھی پانی بہتا رہا ہوگا۔
یہ دریافت زندگی کے امکانات کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مریخ پر کبھی مائیکروبیل زندگی پائی جاتی تو یہ سخت حالات جیسے شدید تابکاری، گرد آلود طوفان اور درجہ حرارت کی انتہا سے بچنے کے لیے زیرِ زمین غار ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کر سکتے تھے۔
قدیم کارسٹ غار ممکنہ طور پر پانی کے ساتھ زندگی کے لیے ضروری کیمیائی عناصر بھی سمیٹے ہوئے ہوں، اس لیے مستقبل کی مریخی مہمات میں یہ مقامات اہمیت اختیار کر سکتے ہیں، کیونکہ یہاں ماضی کی ممکنہ زندگی کے آثار محفوظ رہنے کا امکان زیادہ ہے۔
یہ دریافت نہ صرف مریخ کی ارضیاتی تاریخ کو نئی روشنی میں دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے بلکہ کائنات میں زندگی کی تلاش کے سفر کو بھی نئی سمت دیتی

Leave a reply