مالی میں عسکری گروہ نے متحدہ عرب امارات کےشہزادے کے بدلے پانچ کروڑ ڈالر کا تاوان حاصل کرلیا

0
114
مالی میں عسکری گروہ نے متحدہ عرب امارات کےشہزادے کے بدلے پانچ کروڑ ڈالر کا تاوان حاصل کرلیا

مالی میں ایک شدت پسند گروہ نے چند ہفتے قبل متحدہ عرب امارات کے ایک شاہی خاندان کے رکن کو رہا کرنے کے عوض تقریباً پانچ کروڑ ڈالر وصول کیے، جسے خطے میں اب تک کا سب سے بڑا تاوان قرار دیا جا رہا ہے۔

مقامی ذرائع اور سیکیورٹی اہلکاروں کے مطابق یہ رقم القاعدہ سے وابستہ جہادی تنظیم کو دی گئی، جو مالی میں فوجی حکومت کے خلاف سرگرم ہے اور شریعت کے نفاذ کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔ گروہ کے اہم مالی ذرائع میں اغوا اور ایندھن کی فراہمی شامل ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ 26 ستمبر کو باماكو کے قریب سونے کے کاروبار سے منسلک متحدہ عرب امارات کے شہری کو اغوا کیا گیا، جس کے ساتھ ایک ایرانی اور ایک پاکستانی کاروباری بھی یرغمال بنائے گئے تھے۔ ابتدائی طور پر یرغمالیوں کی صحت کے ثبوت کے بدلے تقریباً 70 لاکھ ڈالر ادا کیے گئے، اور آخر کار اکتوبر کے آخر تک مجموعی طور پر پانچ کروڑ ڈالر کی رقم کے عوض تینوں کو رہا کر دیا گیا۔

مالی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس عمل کے نتیجے میں عسکریت پسند گروہ کے تقریباً 30 قیدی بھی رہا ہوئے، اور بعض مالی فوجی اہلکاروں کی بھی رہائی عمل میں آئی۔

رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اس بھاری تاوان کی رقم فراہم کی۔ اسی مذاکرات کے دوران ایک ایرانی شہری کو بھی آزاد کرایا گیا۔

ماہرین کے مطابق یہ مالی امداد شدت پسند گروہ کے لیے اہم ثابت ہوگی، جو ملک میں فوجی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایندھن کی سپلائی محدود کرنے اور دیگر اقدامات کر رہا ہے۔ ایندھن کی کمی کے سبب باماكو میں اسکول بند کرنے پڑے اور ایندھن کے لیے طویل قطاریں لگیں۔

امریکی نگرانی کرنے والی ایجنسی کے مطابق مغربی افریقا میں غیر ملکی شہریوں کا اغوا شدت پسند گروہوں کے لیے اہم مالی ذریعہ ہے، اور ہر سال دو سے چار ایسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ مالی میں 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے حکام داعش اور القاعدہ سے وابستہ گروہوں کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں، تاہم یہ گروہ اب بھی شہری علاقوں کے آس پاس اپنی موجودگی کو مضبوط کر چکے ہیں۔

Leave a reply