
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کے ایک اہم میچ میں فخر زمان کو بال ٹیمپرنگ کے الزام میں لیول تھری آفینس کا سامنا ہے، جس پر انہوں نے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق سماعت میچ ریفری روشن مہاناما کی سربراہی میں ہوئی، جہاں فخر زمان نے خود پر لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں مزید سماعت ہوگی، جس کے بعد حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔ اگر وہ قصوروار قرار پاتے ہیں تو انہیں کم از کم ایک میچ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ واقعہ پاکستان سپر لیگ 11 کے چھٹے میچ کے دوران پیش آیا، جہاں لاہور قلندرز اور کراچی کنگز آمنے سامنے تھے۔ میچ کے آخری لمحات میں امپائرز نے فخر زمان پر گیند کی حالت غیر قانونی طور پر تبدیل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کراچی کنگز کو پانچ پنالٹی رنز دے دیے۔
اس فیصلے کے بعد کراچی کنگز کو جیت کے لیے درکار رنز کم ہو کر 9 رہ گئے، جبکہ بیٹنگ ٹیم کی درخواست پر گیند بھی تبدیل کی گئی۔ بعد ازاں کراچی کنگز نے ہدف تین گیندیں قبل حاصل کرتے ہوئے میچ جیت لیا۔
میچ میں کراچی کنگز کی قیادت ڈیوڈ وارنر کر رہے تھے، جو ماضی میں 2018 کے بال ٹیمپرنگ تنازع میں پابندی کا سامنا کر چکے ہیں۔
لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم اس معاملے کا جائزہ لے گی اور ویڈیو دیکھنے کے بعد کوئی مؤقف اپنایا جائے گا۔
قوانین کے مطابق کھلاڑیوں کو گیند کی حالت تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، سوائے اسے چمکانے کے۔ اس نوعیت کے واقعات میں امپائرز رپورٹ میچ ریفری کو دیتے ہیں، جو ضابطوں کے تحت کارروائی کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔







