قرضوں کے بوجھ تلے دبا پاکستان، فی کس قرضہ خطرناک حد تک بڑھ گیا

0
32
قرضوں کے بوجھ تلے دبا پاکستان، فی کس قرضہ خطرناک حد تک بڑھ گیا

گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان میں فی کس قرضے کا حجم نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق ہر شہری پر قرضے کا بوجھ ایک سال میں 13 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے، جو حکومت کے لیے ایک سنجیدہ مالی دباؤ بن گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سالانہ مالیاتی پالیسی بیان میں سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں فی کس قرضہ تقریباً 2 لاکھ 94 ہزار روپے تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار روپے سے تجاوز کر گیا۔ اس طرح ایک سال کے دوران فی شہری قرضے میں لگ بھگ 39 ہزار روپے کا اضافہ ہوا، جس کا حساب ملک کی اندازاً 24 کروڑ سے زائد آبادی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ جون 2024 سے جون 2025 کے عرصے میں مجموعی عوامی قرضہ 71 کھرب روپے سے بڑھ کر 80 کھرب روپے سے زیادہ ہو گیا۔ قرضوں میں اضافے کی اہم وجوہات میں بلند شرحِ سود اور زرِ مبادلہ کی قدر میں تبدیلی کو شامل کیا گیا ہے۔
مالیاتی رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ عوامی قرضہ گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا۔ فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ کے تحت حکومت ہر سال پارلیمنٹ میں مالی پالیسی بیان پیش کرنے کی پابند ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق وفاقی مالی خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 6.2 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ قانون کے مطابق اس کی حد 3.5 فیصد مقرر ہے۔ اس طرح حکومت نے قانونی حد سے کہیں زیادہ خسارہ برداشت کیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مجموعی عوامی قرضہ جی ڈی پی کے تناسب سے بڑھ کر 70 فیصد سے تجاوز کر گیا۔ اسی دوران وفاقی سطح پر نئے ادارے قائم کیے گئے، کابینہ میں توسیع کی گئی اور سرکاری اخراجات میں اضافہ ہوا، حالانکہ کفایت شعاری کے دعوے کیے جاتے رہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے لیے وفاقی اخراجات کا مجموعی بجٹ تقریباً 19 کھرب روپے رکھا گیا، جن میں بڑی رقم جاری اخراجات پر خرچ ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے جی ڈی پی کے تناسب سے اضافی اخراجات بھی کیے۔
ٹیکس آمدن مقررہ ہدف سے کم رہی، تاہم نان ٹیکس آمدن توقعات سے بہتر رہی۔ دوسری جانب ترقیاتی اخراجات میں کمی دیکھنے میں آئی، جبکہ دفاعی اخراجات اور قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے قومی خزانے پر مزید دباؤ بڑھ گیا

Leave a reply