قرضوں پر سود سب سے بڑا خرچ، معیشت میں اصلاحات جاری

0
72
قرضوں پر سود سب سے بڑا خرچ، معیشت میں اصلاحات جاری

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کے لیے سب سے بڑا مالی بوجھ قرضوں پر سود کی ادائیگی ہے، جبکہ سرکاری اداروں میں سالانہ تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تھیں اور رواں مالی سال یہ 41 ارب ڈالر سے تجاوز کریں گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ڈھانچہ جاتی اصلاحات، ایف بی آر کی ٹرانسفارمیشن اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کار بھی شامل ہوئے اور 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ بعض سرکاری اداروں کو سبسڈی میں بدعنوانی کے باعث بند کیا گیا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈیوٹیز کو مناسب سطح پر رکھنا اور کاروباری لاگت کم کرنا ضروری ہے۔ قرضوں کی ادائیگی کے لیے گزشتہ سال 850 ارب روپے کی بچت ہوئی اور رواں مالی سال بھی اخراجات میں کمی کی جائے گی۔ حکومت آئندہ دو ہفتوں میں پانڈا بانڈز جاری کرے گی اور سرمایہ کاروں میں پاکستان میں سرمایہ کاری کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بڑی صنعتوں کی کارکردگی مثبت رہی، نجی شعبے کو فراہم کردہ قرضے 1.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے ہیں اور اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ 18 ماہ میں سرمایہ کاری میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے پاس دنیا کی تیسری بڑی فری لانسر فورس موجود ہے اور حکومت نوجوانوں کے لیے پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ قرضوں کی منصوبہ بندی بہتر بنانے سے بچت کو ترقیاتی منصوبوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ریکوڈک منصوبے، ٹیلی نار کی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کی مثالیں دیتے ہوئے پاکستان میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا ذکر کیا۔
مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ ماضی کی معاشی حکمت عملی نے نجی سرمایہ کاری کو متاثر کیا، اور نجکاری مارکیٹ کی کمزوریوں کو درست کرنے کا عمل ہے۔ مصدق ملک نے کہا کہ ملک میں خوشحالی کے لیے تعلیم، ہنر اور پیداواری صلاحیت بڑھانا ضروری ہے اور معیشت میں صرف اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے والی پالیسیاں نقصان دہ ہیں۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ جہاز اور ٹریکٹر سازی میں بھی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، لیکن عالمی مقابلے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے چین اور ویتنام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی برآمدات بڑھانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔

Leave a reply