قاہرہ: مصری میوزیم سے فرعون کا 3 ہزار سال قدیم سونے کا کڑا غائب

0
160
قاہرہ: مصری میوزیم سے فرعون کا 3 ہزار سال قدیم سونے کا کڑا غائب

قاہرہ کے مشہور مصری میوزیم سے تقریباً تین ہزار سال پرانا سونے کا کڑا غائب ہو گیا ہے، جو ایک قدیم فرعون کی ملکیت تھا۔ یہ کڑا، جس پر لاجورد کا نگینہ جڑا ہوا ہے، آخری بار میوزیم کی تحریر اسکوائر میں واقع ریسٹوریشن لیبارٹری میں دیکھا گیا تھا۔

وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ نے اس معاملے کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کرنے کی اطلاع دی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کڑے کی تصویر کو ملک کے تمام ہوائی اڈوں، سمندری بندرگاہوں اور زمینی سرحدی مقامات پر بھیجا گیا ہے تاکہ اسمگلنگ کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔

یہ قیمتی کڑا بادشاہ امینموپی کا تھا، جو تیسرے عبوری دور (1076 تا 723 قبل مسیح) میں حکمران تھے۔ امینموپی کو اکیسویں شاہی خاندان کا ایک کم معروف بادشاہ سمجھا جاتا ہے، جنہیں ابتدا میں تینس کے شاہی قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔ ان کی باقیات کو بعد میں فرعون پسوسینیس اول کے قریب دوبارہ دفن کیا گیا تھا، اور ان کی قبر 1940 میں دریافت ہوئی تھی۔

کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرِ آثارِ قدیمہ، کرسٹوس سیرُوجیانس نے کہا کہ نوادرات کی عالمی منڈی کی بدولت، کڑے کا غائب ہونا حیران کن نہیں۔ ان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ کڑا اسمگل ہو کر جلد ہی کسی آن لائن پلیٹ فارم یا نیلام گھر میں ظاہر ہو جائے، یا پھر اسے سونے کے لیے پگھلا دیا جائے۔ ایک اور امکان یہ ہے کہ یہ کڑا کسی نجی کلیکشن میں چھپایا جائے۔

وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ نے کہا ہے کہ تمام دیگر نوادرات کی فہرست سازی اور جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

مصر میں قدیم نوادرات کی غیر قانونی تجارت ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔ پچھلے سال حکام نے اسکندریہ کے قریب ابو قیر بے سے سیکڑوں چوری شدہ نوادرات کے ساتھ دو افراد کو گرفتار کیا تھا جو انہیں بیچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

Leave a reply