قالیباف کا دوٹوک مؤقف: امریکا سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی سطح پرکوئی بھی مذاکرات نہیں ہورہے۔
اپنے ایک بیان میں قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے مذاکرات سے متعلق گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ ان کے مطابق یہ تاثر جان بوجھ کر پیدا کیا جا رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر رائے عامہ کو متاثر کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اس قسم کے دعووں کے ذریعے اپنی معاشی مشکلات اور عالمی تیل مارکیٹ میں عدم استحکام کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ قالیباف کے مطابق یہ ایک منظم بیانیہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
ایرانی اسپیکر نے مزید الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل خطے میں پیچیدہ صورتحال کا شکار ہیں اور اس سے نکلنے کے لیے ایسے بیانات دیے جا رہے ہیں جو زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ حکمت عملی خطے میں اپنی پوزیشن بہتر ظاہر کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایرانی عوام بیرونی دباؤ اور حملوں کے خلاف سخت مؤقف رکھتے ہیں اور ملک کی قیادت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی قیادت کے اہداف کے حصول تک قوم متحد ہو کر کھڑی رہے گی۔
انہوں نے ایک بار پھر دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات سے متعلق تمام خبریں بے حقیقت ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں۔









