فلسطینی صدر کو روکنے کی امریکی کوشش، اقوام متحدہ نے متبادل راستہ دے دیا

امریکا کی جانب سے ویزا جاری نہ کیے جانے کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔ اقوام متحدہ نے انہیں آن لائن شرکت کی اجازت دے دی ہے۔
حال ہی میں کئی ممالک نے فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس تناظر میں امریکا کی جانب سے فلسطینی صدر کو نیویارک میں اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا نہ دینے کا فیصلہ سامنے آیا۔
ادھر پرتگال نے باقاعدہ طور پر فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پرتگالی وزیر خارجہ نے حالیہ برطانوی دورے کے دوران اس امکان کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد اب سرکاری طور پر اس فیصلے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
مزید یہ کہ کینیڈا، فرانس، برطانیہ، بیلجیم اور آسٹریلیا سمیت کئی مغربی ممالک بھی آئندہ دنوں میں فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے اعلانات کر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا موجودہ اجلاس عالمی سطح پر فلسطین کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔









