فرانس نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرلیا، دو ریاستی حل کی حمایت

حالیہ عالمی پیش رفت کے تحت فرانس نے بھی فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اقوام متحدہ کی ایک کانفرنس کے دوران اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جاری جنگ ختم کی جائے اور فریقین امن کی جانب بڑھیں۔
صدر میکرون نے غزہ میں جاری جنگ کو “ناقابلِ جواز” قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ حماس کے زیرِ حراست تمام مغویوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو ان کا حق دینے سے اسرائیلیوں کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے، بلکہ یہ اقدام خطے میں دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے ان ممالک کا بھی ذکر کیا جنہوں نے حال ہی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے، جن میں برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، پرتگال، بیلجیم، لکسمبرگ، مالٹا، مراکش، سان مارینو اور اندورا شامل ہیں۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ ان ممالک نے جولائی میں ہماری اپیل پر مثبت ردِعمل دیا اور امن کے لیے ایک ذمے دارانہ قدم اٹھایا۔ انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ اگر موجودہ موقع ضائع کیا گیا تو شاید دوبارہ ایسا موقع نہ ملے۔
فرانس نے بھی دیگر ممالک کے ساتھ مل کر دو ریاستی حل کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے، جس کے مطابق اسرائیل اور فلسطین کو دو خودمختار ریاستوں کی حیثیت سے پرامن طور پر ساتھ رہنا ہوگا۔








