غیر ملکی اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کے خلاف درخواست؛ جرمانے کے ساتھ خارج

ہاٹ لائن نیوز : سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے غیر ملکی اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کے خلاف درخواست 20 ہزار جرمانے کے ساتھ خارج کردی۔
سپریم کورٹ میں غیر ملکی اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے، الیکشن کمیشن غیر ملکی اکاؤنٹس اور اثاثوں پر قانون سازی کیسے کرسکتا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزار نے درخواست میں کوئی قانونی نکتہ نہیں اٹھایا، جس پر درخواست گزار مشتاق اعوان نے کہا کہ میری رائے ہے کہ بینک اکاؤنٹس پر غیر ملکی اثاثوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اس معاملے پر قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے، کس کے بیرون ملک اثاثے ہیں یا بینک اکاؤنٹس، کسی کا نام نہیں لیا گیا۔
جسٹس مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا نہیں کہا جا سکتا۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ درخواست گزار کو اس معاملے پر قانون سازی کے لیے اپنے حلقے کے منتخب نمائندے سے رجوع کرنا چاہیے۔









