“غزہ کے بعد ترکیہ؟ انقرہ اسرائیلی بیانات پر سراپا احتجاج”

مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی فوجی سرگرمیوں میں وسعت کے بعد ترکیہ میں اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ تل ابیب کی اگلی توجہ ترکیہ پر ہو سکتی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے حالیہ مہینوں میں غزہ، شام، یمن اور تیونس پر فضائی حملوں کے بعد انقرہ میں خارجہ و دفاعی سطح پر سنجیدہ خدشات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے قریبی مشیر کی جانب سے اسرائیل پر سخت تنقید کی گئی ہے، جبکہ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی و اقتصادی تعلقات معطل کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کی خطے میں پالیسی کو “تقسیم در تقسیم” کی سازش قرار دیا ہے۔
اسرائیلی تھنک ٹینک اور بیانات
حالیہ بیانات میں امریکی تھنک ٹینک سے وابستہ بعض تجزیہ کاروں اور اسرائیلی سیاستدانوں نے ترکیہ کو آئندہ ممکنہ ہدف قرار دیا ہے۔ امریکا کے ایک معروف تھنک ٹینک “امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ” سے وابستہ تجزیہ کار نے خبردار کیا ہے کہ “ترکیہ کو نیٹو کی مکمل حمایت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے”۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر بعض اسرائیلی شخصیات کی جانب سے “آج قطر، کل ترکیہ” جیسے بیانات نے انقرہ میں شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔
قبرص اور بحیرۂ روم میں صورت حال
ترک بحری پالیسی کے معمار سمجھے جانے والے ریٹائرڈ ایڈمرل جیم گوردنیز نے اسرائیل کی بحیرۂ روم، خاص طور پر قبرص اور شام میں سرگرمیوں کو ترکیہ کے سمندری مفادات کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کی یہ حکمتِ عملی ترکیہ کے “بلو ہوم لینڈ” نظریے کو محدود کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
واضح رہے کہ “بلو ہوم لینڈ” ترکیہ کی بحیرۂ روم، ایجیئن اور بحیرۂ اسود میں سمندری خودمختاری پر مبنی پالیسی ہے۔
ممکنہ اتحاد اور علاقائی حکمتِ عملی
ترکیہ میں ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال انقرہ کو فضائی و میزائل دفاع کو مضبوط بنانے، اور قطر، اردن اور عراق جیسے ممالک کے ساتھ نئے علاقائی اتحاد قائم کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر گوکھان جنگکارا کے مطابق، اسرائیل اور ترکیہ ممکنہ طور پر براہِ راست جنگ سے گریز کریں گے، لیکن پراکسی جنگوں اور خفیہ کارروائیوں کے ذریعے کشیدگی میں اضافہ خارج از امکان نہیں۔








