غزہ میں جنگ بندی نافذ، فلسطینی تباہ حال گھروں کو لوٹنے لگے

غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کے آغاز کے اعلان کے بعد شہری اپنے اجڑے ہوئے علاقوں کی جانب واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ کئی ماہ کی بے دخلی اور شدید لڑائی کے بعد لوگ کھنڈر بن چکے گھروں میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں خوشی کے جذبات جلد ہی مایوسی میں بدل گئے۔ متاثرہ افراد کو اپنے تباہ شدہ مکانات کے ملبے میں ضروری سامان ڈھونڈتے دیکھا گیا، جب کہ علاقے میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی بدستور موجود ہے۔
موجودہ صورتحال کے تحت اسرائیلی فوج کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر شہری علاقوں سے پیچھے ہٹ جائے، تاہم اب بھی نصف سے زیادہ غزہ پر اس کا کنٹرول برقرار ہے۔
معاہدے کے مطابق، حماس آئندہ 72 گھنٹوں میں 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی، جب کہ اس کے بدلے اسرائیل 250 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرے گا۔ ان کے علاوہ جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے مزید 1,700 افراد کی رہائی بھی طے پائی ہے۔
عالمی سطح پر بھی اس معاہدے کے بعد سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ پیر کو اسرائیل پہنچیں گے، جہاں وہ کنیسٹ سے خطاب کریں گے۔ ان کے اس دورے کے لیے سیکیورٹی ادارے تیاریاں مکمل کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار سے خطے کا دورہ شروع کریں گے اور ممکنہ طور پر مصر میں ایک خصوصی تقریب میں شرکت کریں گے، جہاں غزہ بحران سے متعلق عالمی رہنماؤں کی کانفرنس بلائے جانے کا امکان ہے۔
اسی دوران، امریکی وزیر دفاع نے اعلان کیا ہے کہ قطر امریکی ریاست آئیڈاہو میں ایک نیا فضائی اڈہ قائم کرے گا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔









