غزہ میں امن کے لیے امریکا کی عرب و مسلم ممالک سے افواج بھیجنے کی درخواست: رپورٹ

0
121
غزہ میں امن کے لیے امریکا کی عرب و مسلم ممالک سے افواج بھیجنے کی درخواست: رپورٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں ہفتے بدھ کو پاکستان سمیت متعدد مسلم اکثریتی ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے تاکہ غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق یہ ملاقاتیں ایک کثیرالجہتی اجلاس کی صورت میں ہوں گی، جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ، انڈونیشیا اور پاکستان کے نمائندے شریک ہوں گے۔

صدر ٹرمپ اس موقع پر ایک منصوبہ پیش کرنے جا رہے ہیں، جس کا مقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے، یرغمالیوں کی رہائی، اسرائیلی انخلا اور بعد از جنگ نظام کے قیام پر گفتگو کرنا ہے۔ تاہم، اس عمل میں فلسطینی تنظیم حماس کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ عرب اور مسلم ممالک غزہ میں اپنی افواج تعینات کریں تاکہ اسرائیلی افواج کے انخلا کو یقینی بنایا جا سکے اور علاقے میں تعمیر نو کے لیے مالی امداد فراہم کی جا سکے۔

صدر ٹرمپ یہ اجلاس ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب حال ہی میں دنیا کے متعدد ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اسرائیل اور امریکا کی بعض حلقوں میں اسے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

غزہ کی حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے ایران، لبنان، یمن، شام اور قطر پر حملے کیے گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ غزہ کی جنگ کو جلد ختم کریں گے، لیکن آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود کوئی دیرپا حل سامنے نہیں آ سکا۔

فروری میں صدر ٹرمپ نے غزہ میں امریکی کنٹرول اور فلسطینی آبادی کی مستقل منتقلی کی تجویز دی تھی، جسے عالمی سطح پر “نسلی تطہیر” قرار دیا گیا۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس تجویز کو بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا، تاہم صدر ٹرمپ نے اسے ایک “تعمیر نو منصوبہ” کا نام دیا تھا۔

صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے آئندہ خطاب میں ان نکات کو اجاگر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس سے اس معاملے پر بین الاقوامی ردعمل مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

Leave a reply