غزہ جانے والی گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ، متعدد افراد گرفتار

0
122
غزہ جانے والی گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ، متعدد افراد گرفتار

غزہ کی جانب انسانی امداد لے کر جانے والے عالمی فلوٹیلا قافلے پر اسرائیلی فورسز نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں قافلے میں شامل کئی افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان اور معروف سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔

فلوٹیلا، جس میں 40 سے زائد کشتیاں شامل تھیں، محصور غزہ کے شہریوں کے لیے خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان لے کر جا رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے فلوٹیلا کو گھیرے میں لے کر بعض کشتیوں پر پانی کی توپیں برسائیں، جبکہ مرکزی کشتیوں میں سے ایک ’دیر یاسین‘ پر زبردستی چڑھائی کر کے تمام افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران کئی کشتیوں کے مواصلاتی نظام، جی پی ایس اور انٹرنیٹ سسٹمز پر سائبر حملے بھی کیے گئے، جس کے باعث رابطہ منقطع ہو گیا۔ اس کے باوجود تقریباً 30 کشتیاں اب بھی غزہ کے قریب، صرف 85 کلومیٹر کے فاصلے پر، امداد پہنچانے کے مشن پر رواں دواں ہیں۔

پاک فلسطین فورم نے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے اور اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی اور تمام گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق گرفتار شدگان کو اسرائیلی بندرگاہ پر منتقل کر کے ملک بدر کر دیا جائے گا۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ قافلے کو غزہ کے بجائے اشدود بندرگاہ پر امداد اتارنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے گلوبل فلوٹیلا کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

فلوٹیلا کے اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن تیاغو اویلا نے کہا کہ قافلہ ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور رکاوٹوں کے باوجود ان کا مشن جاری رہے گا۔

Leave a reply