
اسلام آباد: طورخم بارڈر کی بندش سے افغانستان کو ایک ماہ میں تقریباً 45 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جبکہ پاکستانی حکام کے مطابق یہ اقدام افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے ملک میں غیر قانونی سامان کے داخلے کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کے ذرائع کے مطابق افغان ٹرانزٹ کے نام پر اسمگل شدہ سامان، منشیات، غیر قانونی اسلحہ اور دیگر غیر قانونی تجارتی سرگرمیاں پاکستان کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچاتی رہی ہیں۔ پاکستان کی طرف سے 11 اکتوبر 2025 کو سرحد بند کرنا تجارتی ردعمل نہیں بلکہ تجارتی نظام میں اصلاحات کا حصہ ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کی زیادہ تر تجارت پاکستان کے راستوں اور بندرگاہوں پر منحصر ہے، جہاں سامان کراچی کے راستے 3 سے 4 دن میں پہنچ جاتا ہے، جبکہ ایران کے راستے یہ 6 سے 8 دن میں پہنچے گا۔ وسطی ایشیائی ممالک کے راستے سامان پہنچنے میں 30 دن یا اس سے زیادہ لگ سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق افغان ٹرانزٹ کے ذریعے پاکستان میں داخل ہونے والے سامان کی وجہ سے ہر سال تقریباً 3.4 کھرب روپے کا نقصان ہوتا رہا، اور ایک کھرب روپے کا سامان واپس آ جانے سے مزید مالی نقصان ہوتا ہے۔
طورخم کی بندش کے بعد، ایک ماہ کے اندر افغانستان کو تقریباً 45 ملین ڈالر کا نقصان ہوا، اور چند ہفتوں میں سرحدوں کے بند ہونے سے مجموعی نقصان 200 ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ تقریباً 5000 ٹرک پھنس گئے، جبکہ پاکستان میں فروخت کے منتظر افغان فصلیں اور پھل یا تو خراب ہو گئے یا انتہائی کم قیمت پر افغانستان میں فروخت کیے گئے۔









