
لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ کی ہدایات پر قائم کمیٹی نے پنجاب کے تمام اسکولوں اور کالجوں کے لیے یکساں تعلیمی کیلنڈر نافذ کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ ہر تعلیمی سال میں اداروں کو کم از کم 190 تدریسی دن مکمل کرنے ہوں، جبکہ موسمِ گرما کی چھٹیوں میں نمایاں کمی کی جائے۔
ذرائع کے مطابق، کمیٹی نے موجودہ تقریباً ڈھائی ماہ کی گرمیوں کی چھٹیوں کو کم کر کے چھ ہفتے تک محدود کرنے کی تجویز دی ہے۔ کمیٹی نے گزشتہ چار ماہ میں تین اجلاس کیے، اور تیسرے اجلاس میں اپنی سفارشات کو حتمی شکل دی۔ اجلاس لاہور میں منعقد ہوا جس کی صدارت سیکریٹری اسکول ایجوکیشن نے کی، جبکہ خصوصی سیکریٹری محمد اقبال نے اجلاس کی نگرانی کی۔
کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ تعلیمی کیلنڈر کے تحت سالانہ تعطیلات کی مجموعی تعداد 175 دن ہوگی، جبکہ تدریسی دن 190 رہیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں تعطیلات میں اضافے سے نصاب بروقت مکمل نہیں ہو پا رہا، جس سے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔
نجی تعلیمی اداروں کی تنظیموں نے بھی کمیٹی کی سفارشات کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ یکساں اور متوازن تعلیمی کیلنڈر سے نصاب کی تکمیل آسان ہوگی اور تعلیمی معیار بہتر ہوگا۔
سفارشات کے بعد پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے خصوصی سیکریٹری محمد اقبال نے ہدایت دی ہے کہ تین دن کے اندر یکساں تعلیمی کیلنڈر تیار کیا جائے۔ یہ کمیٹی جسٹس جواد حسن کی ہدایت پر تعلیمی تعطیلات میں اضافے کے خلاف آئینی درخواست کی سماعت کے دوران تشکیل دی گئی تھی۔ رپورٹ آئندہ سماعت میں عدالت کے سامنے پیش کی جائے گی، جس کے بعد تعلیمی کیلنڈر سے متعلق حتمی فیصلہ متوقع ہے۔









