صنعتی و برآمدی شعبے کے لیے بجلی سستی، ٹیکس میں نمایاں کمی کا اعلان

0
78
صنعتی و برآمدی شعبے کے لیے بجلی سستی، ٹیکس میں نمایاں کمی کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتی اور برآمدی شعبے کو سہولت دینے کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، ٹیکس میں نرمی اور ایکسپورٹرز کے لیے خصوصی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت معیشت کی بہتری اور برآمدات میں اضافے کے لیے عملی اور ٹھوس فیصلے کر رہی ہے۔
معروف برآمدکنندگان اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حالات اجازت دیتے تو وہ بجلی کی قیمت میں 10 روپے فی یونٹ تک کمی کرنا چاہتے تھے، تاہم موجودہ مالی دباؤ کے باعث یہ ممکن نہیں۔
وزیراعظم نے صنعتی صارفین کے لیے ویلنگ چارجز میں بھی 9 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا اور کہا کہ اس فیصلے سے صنعتوں کی پیداواری لاگت کم ہوگی اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ برآمدکنندگان پر عائد ٹیکس کی شرح ساڑھے سات فیصد سے کم کرکے چار فیصد کی جا رہی ہے، جس سے ایکسپورٹ سیکٹر کو نمایاں ریلیف ملے گا اور برآمدات کے حجم میں اضافے کی توقع ہے۔
وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے برآمدکنندگان اور کاروباری رہنماؤں کو دو سال کے لیے بلیو پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے تاکہ انہیں بین الاقوامی سطح پر سہولت حاصل ہو سکے۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت تاجر برادری سے مشاورت کے ساتھ معاشی پالیسیاں تشکیل دے گی تاکہ کاروباری طبقہ ملکی معیشت میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکے۔ انہوں نے کاروباری شخصیات کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود انہوں نے بہترین کارکردگی دکھا کر پاکستان کا نام روشن کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاسی اور عسکری قیادت کے باہمی تعاون سے ملک میں ترقی کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔
ملک کی مالی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایک وقت میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں، تاہم حکومتی اقدامات کے باعث ایسا ہونے سے بچا لیا گیا۔ انہوں نے 2023 میں پیرس میں آئی ایم ایف کی قیادت سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سخت شرائط کے باوجود پروگرام کی منظوری ملی جس سے معاشی استحکام ممکن ہوا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے جبکہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے دس فیصد تک آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور آئندہ اصلاحات کے لیے صنعتکاروں اور ماہرین کی تجاویز کو اہمیت دی جائے گی۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تشخص پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان کے مؤقف نے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو مضبوط کیا ہے اور بیرونی دوروں میں پاکستان کے لیے رویوں میں مثبت تبدیلی دیکھی گئی ہے۔
انہوں نے چین، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت دوست ممالک کی معاونت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ وزیراعظم کے مطابق حکومت کے سخت مگر ضروری فیصلے مثبت نتائج دے رہے ہیں، تاہم ترقی کے سفر کو جاری رکھنے کے لیے مزید محنت درکار ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت شفافیت، نجکاری، ٹیکس اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ اور اسمگلنگ و کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے پی آئی اے اور یوٹیلیٹی اسٹورز میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی سہولت اور وقار کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ قوم کے صبر اور محنت سے پاکستان کا مستقبل روشن ہوگا اور حکومت مشکل فیصلوں کے ذریعے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھے گی۔

Leave a reply