صدر ٹرمپ کی ثالثی سے تھائی لینڈ-کمبوڈیا تنازع میں نیا موڑ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملائیشیا پہنچ گئے ہیں تاکہ آسیان سربراہی اجلاس میں حصہ لیں۔ اجلاس کے دوران تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان توسیع شدہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے، جس کے مشاہدے کے لیے صدر ٹرمپ وہاں موجود ہوں گے۔
یہ معاہدہ جولائی میں دونوں ممالک کے درمیان پانچ روزہ سرحدی جھڑپوں کے خاتمے کے بعد طے پانے والے ابتدائی سمجھوتے کی توسیع ہے۔ ان جھڑپوں میں کم از کم 48 افراد ہلاک اور تقریباً تین لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے، جو حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان بدترین تصادم میں شمار کی جا رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس تنازع کے دوران دونوں ملکوں کے رہنماؤں سے براہِ راست رابطہ کیا اور انہیں خبردار کیا کہ اگر لڑائی ختم نہ کی گئی تو امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات روک دیے جائیں گے۔
تھائی وزیرِاعظم انوتن چانویراکل نے آخری لمحے میں تقریب میں شرکت کے لیے کوالالمپور کا رخ کیا، حالانکہ وہ ابتدا میں ملک کی ملکہ والدہ کی وفات کے باعث شرکت سے گریز کر رہے تھے۔ کوالالمپور پہنچنے پر صدر ٹرمپ کا ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے پرتپاک استقبال کیا، اور روایتی رقص کے دوران صدر ٹرمپ نے بھی مختصر طور پر حصہ لیا۔
تجارتی مذاکرات میں پیش رفت
آسیان اجلاس کے دوران امریکا اور چین کے مذاکرات کار تجارتی جنگ کے خدشات کم کرنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ امریکی تجارتی نمائندے کے مطابق ملاقات میں ریئر ارتھ میٹلز سمیت مختلف اہم اقتصادی امور پر بات ہوئی اور دونوں فریقوں نے تجارتی اقدامات میں نرمی پر اتفاق ظاہر کیا۔
صدر ٹرمپ برازیلی صدر لولا دا سلوا سے بھی ملاقات کریں گے۔ لولا کے مطابق امریکا کی 50 فیصد درآمدی ٹیرف کی پالیسی غلط ہے، جبکہ گزشتہ 15 سال میں برازیل نے امریکا سے 410 ارب ڈالر کا تجارتی فائدہ حاصل کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ٹیرف میں کمی پر غور کر سکتے ہیں۔
ایسٹ تیمور آسیان کا حصہ بن گیا
اجلاس کے موقع پر ایسٹ تیمور کو باضابطہ طور پر آسیان کا 11واں رکن ملک تسلیم کیا گیا۔ تقریباً 1.4 ملین آبادی والا یہ ملک ایشیا کی کمزور معیشتوں میں شامل ہے، لیکن اس کی شمولیت کو تاریخی اور علامتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسٹ تیمور کے صدر اور وزیراعظم نے اس دن کو “نصف صدی پرانے خواب کی تکمیل” قرار دیا۔








