
پنجاب اور دیگر علاقوں میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ادارہ شماریات کی 5 ستمبر تک جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران 20 کلو آٹے کا تھیلا 1,050 روپے تک مہنگا ہوا، جس کے بعد بعض شہروں میں آٹے کا تھیلا 2,500 روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بنوں میں آٹے کی قیمت میں سب سے زیادہ 1,050 روپے اضافہ ہوا، جبکہ پشاور اور لاڑکانہ میں یہ اضافہ 900 روپے تک ریکارڈ کیا گیا۔ سکھر میں 840، لاہور میں 830، ملتان میں 826، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں 817، اسلام آباد میں 800، جبکہ راولپنڈی اور کوئٹہ میں 740 روپے فی تھیلا مہنگا ہوا۔
بہاولپور میں آٹےکیقیمت میں 866 روپے 67 پیسےکا اضافہ ہوا، جو گزشتہ تین ہفتوں کےدوران ایک بڑا معاشی بوجھ بن کرسامنے آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث گندم کی ترسیل میں خلل اور ذخیرہ اندوزی اس اضافے کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جس کا براہ راست اثر عوام کی روزمرہ زندگی پر پڑے گا۔









