شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ — خواب سے حقیقت تک کا سفر

0
134
شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ — خواب سے حقیقت تک کا سفر

سیالکوٹ (خصوصی رپورٹ) — برصغیر کے عظیم مفکر، شاعر اور فلسفی ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبالؒ کی ولادت 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں ہوئی۔ اقبالؒ نے اپنی شاعری اور فکر کے ذریعے نہ صرف مسلمانوں میں بیداری پیدا کی بلکہ ایک الگ مسلم ریاست کے تصور کو بھی جنم دیا، جو بعد ازاں پاکستان کی بنیاد بنی۔

کہا جاتا ہے کہ ان کے والد شیخ نور محمد نے ایک روحانی خواب دیکھا تھا جس میں ایک سفید فاختہ آسمان سے اتر کر ان کی گود میں آ گئی۔ اس خواب نے ان کے دل میں یہ یقین پیدا کیا کہ انہیں ایک ایسا بیٹا عطا ہوگا جو دینِ اسلام کی سربلندی کا ذریعہ بنے گا۔ یہی یقین علامہ اقبالؒ کی تربیت اور ان کے فکری سفر کی بنیاد بنا۔

اقبالؒ کے والد ایک متقی اور صوفی مزاج شخصیت تھے، جنہوں نے اقبالؒ کی روحانی و اخلاقی تربیت پر خاص توجہ دی۔ سیالکوٹ کے معروف عالم مولانا سید میر حسن نے اقبالؒ کی صلاحیت کو پہچان کر انہیں جدید تعلیم کی طرف راغب کیا۔ اسی رہنمائی نے ان کے اندر علم، ادب اور فلسفے سے گہری وابستگی پیدا کی۔

اقبالؒ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے فلسفہ میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ کا رخ کیا۔ کیمبرج یونیورسٹی، لنکنز اِن اور جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کر کے وطن واپس آئے تو ان کا فکری زاویہ یکسر بدل چکا تھا۔ مغربی تہذیب کا مطالعہ کرنے کے بعد انہوں نے اسلام کی روحانی بنیادوں پر امت مسلمہ کے احیاء کا پیغام دیا۔

یورپ میں قیام کے دوران اقبالؒ نے فارسی میں شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی مشہور تصانیف ’’اسرارِ خودی‘‘، ’’رموزِ بے خودی‘‘ اور ’’زبورِ عجم‘‘ نے انہیں عالمی سطح پر شناخت دلائی۔ انگریزی میں ان کی کتاب The Reconstruction of Religious Thought in Islam نے جدید اسلامی فلسفے پر گہرا اثر ڈالا۔

1908 میں وطن واپسی کے بعد اقبالؒ نے وکالت اور تدریس دونوں جاری رکھیں، لیکن ان کی اصل دلچسپی مسلمانوں کی فکری و سیاسی رہنمائی میں تھی۔ 1930 میں الہ آباد کے اجلاس میں انہوں نے ایک الگ مسلم ریاست کا نظریہ پیش کیا، جو بعد میں پاکستان کے قیام کی فکری بنیاد بنا۔

اقبالؒ کی شاعری صرف جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ایک عملی پیغام ہے جو انسان کو خودی، ایمان اور عمل کی دعوت دیتا ہے۔ ان کا انتقال 21 اپریل 1938 کو ہوا، لیکن ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے — خودی کا فلسفہ، امت کی بیداری، اور اسلام کی روحانی بلندی کی جستجو۔

Leave a reply